Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Monday, 2 March 2020

Falak Hafsa - Profile- Urdu BS-47 Revised

Sent after due date 
Revised
This will not be published without photo 

Shilza Sadaf  Profile by Falak Hafsa - Profile- Urdu  BS-47 Revised

بہترین رہنمائی صلاحیت کی حامل 
شلزا صدف
فلک حفصہ
2k18/mc/47
کسی بھی کامیابی کے پیچھے ایک ٹیم ورک کا کام ہوتا ہے۔اسی ٹیم ورک کومثبت پہلو دینے کے لیے ایک بہترین رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کے چلے اورکامیابی کی نئی مثال قائم کرے۔ایک اچھے رہنماکی رہنمائی سے نہ صرف کامیابی حاصل ہوتی ہی بلکے لوگوں میں بھی ان کی شہرت اور پذیرائی ملتی ہے۔یہ ہی حال لطیف آباد نمبر۵ کے اسکول میں زیر تعلیم طلباء کی نمایا ں کارکردگی ہے جن کی اس نمایاں کارکردگی کی پیچھے ان کے اساتذہ کی محنت ہے۔اور ان سب استادوں کو رہنمائی کرنے والی ہیڈ مسٹریس شلزا صدف،جن کے بغیر یہ سب کام مشکل تھا۔اچھے رہنما میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی بات بہتر طریقے سے اپنے ساتھیوں تک پہنچائے اور ان کو اپنا ہم خیال بنائے تا کہ عملی کام میں کوئی رکا وٹ نہ آئے۔اور یہ سب قابلیت اور صلاحیت میم شلزا میں موجود ہیں۔کہ کیسے اپنی اساتذہ ساتھیوں کے ہنر کو ابھارنا ہے۔اور کس طرح عملی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانا ہے۔
لطیف آباد نمبر ۵ کے گورنمٹ اسکول میں تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ اس اسکول کا بچہ بچہ بغیر کسی ججھک کے اپنی سمجھی ہوئی بات اپنے دوسرے ساتھوں کو سمجھا سکتا ہے بلکے دیگر کھیل اورتعلیمی مقابلوں میں بھی نمایا مقام حاصل کرتا ہے۔ان بچوں کے شخصیت کو ابھارنے میں سب سے بڑا ہاتھ میم شلزا اور ان کے اسٹاف میمبر کا ہے۔
کراچی کے شہر کے مختلف اسکولوں میں اپنی تدریسی فرائض کو انجام دیتے ہوئے ہیڈ مسڑیس شلزا صدف نے جو کچھ وہاں سیکھا اب وہ تمام صلاحیتیں اپنے اسکول اور اساتذہ میں اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔انکا ماننا ہے کہ کوشش کرنے سے سارے مشکل کاموں کا حل آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔سادہ اور کھری طبعیت کی ما لک شلزا کا کہنا ہے کہ بچے کسی بھی ملک کے مستقبل کا سرمایا ہوتے ہیں۔انکی پڑھائی کے معاملے میں کوئی سمجھوتا یا کمی بیشی نہ ہو۔علم کی تعلیم دینا اور ساتھ ساتھ بچوں کو اس قابل بنانا کہ وہ بھی اپنی حاصل کردہ تعلیم سے اپنے ارد گرد کے لوگوں میں بھی شعور پیدا کر سکے۔
انکے اسکول میں پڑھانے والی اساتذہ کا کہنا ہے کہ شلزا کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسکول کے بچوں میں ایسا اعتماد پیدا کرنا ایسی صلاحیت پیدا کرنا کہ اسکول میں پڑھنے والے بچے اپنی بات خود اعتمادی کے ساتھ آگے بیان کر سکے۔اور یہ بات ثابت بھی ہوئی کہ جما عت نرسری سے لے کر جماعت پانچویں تک کے طالب علم اپنی نظموں اپنی کتابوں کے اسباق کو پریزنٹیشن کے ذریعے پنے دوسرے ساتھی طالب علم کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں یہ کہ سکتا ہوں اور یہ کر سکتا ہوں۔۔اور یہ سب تبھی ممکن ہوا جب میم شلزا اور انکے اسکول کے اساتذہ نے بچوں کی ان صلاحیتوں کو ابھارا۔میم شلزا جانتی ہیں کہ کس میں کتنی صلاحیت ہے اور کس طرح سے ان کی صلاحیتوں کو کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اور اپنی بات کو منوایا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اسکول میں ان کے زیر نگرانی میں پڑھنے والے بچے اس قابل ہوئے ہیں کہ وہ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ہر کام میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
میم شلزا کا مزید کہنا ہے کہ کوئی بھی کام نا ممکن نہیں ہوتا اور کوشش کرنے سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے جس کے لیے محنت اور لگن درکار ہیں۔میرا اصل مقصد یہی ہے کہ بچوں کو تعلیمی حوالے سے کوئی کمی بیشی نہ ہو۔تعلیم حاصل کرنا سب کا فرض ہے اور اسی تعلیم کے سبب ہمارے بچے ہمارے ملک کے نمایاں سرمایا ہوتے ہیں۔


یہاں فائیل کے اندر آپ کو اپنا نام، رول نمبر اور کلاس اردو اور انگریزی میں لکھنا چاہئے 
 یہ تیسرا پیس ہے، اب تو صحیح سے بھیجنا چاہئے تھا
 پروفائیل اور فیچر کے لئے فوٹو بھیجنا مصنف کی ذمہ داری ہے۔  مقررہ معیار سے تقریبا ایک سو الفاظ کم ہیں 
بہترین رہنمائی صلاحیت کی حامل 
شلزا صدف
کسی بھی کامیابی کے پیچھے ایک ٹیم ورک کا کام ہوتا ہے۔اسی ٹیم ورک کومثبت پہلو دینے کے لیے ایک بہترین رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کے چلے اورکامیابی کی نئی مثال قائم کرے۔ایک اچھے رہنماکی رہنمائی سے نہ صرف کامیابی حاصل ہوتی ہی بلکے لوگوں میں بھی ان کی شہرت اور پذیرائی ملتی ہے۔یہ ہی حال لطیف آباد نمبر۵ کے اسکول میں زیر تعلیم طلباء کی نمایا ں کارکردگی ہے جن کی اس نمایاں کارکردگی کی پیچھے ان کے اساتذہ کی محنت ہے۔اور ان سب استادوں کو رہنمائی کرنے والی ہیڈ مسٹریس شلزا صدف،جن کے بغیر یہ سب کام مشکل تھا۔اچھے رہنما میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی بات بہتر طریقے سے اپنے ساتھیوں تک پہنچائے اور ان کو اپنا ہم خیال بنائے تا کہ عملی کام میں کوئی رکا وٹ نہ آئے۔اور یہ سب قابلیت اور صلاحیت میم شلزا میں موجود ہیں۔کہ کیسے اپنی اساتذہ ساتھیوں کے ہنر کو ابھارنا ہے۔اور کس طرح عملی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانا ہے۔
لطیف آباد نمبر ۵ کے گورنمٹ اسکول میں تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ اس اسکول کا بچہ بچہ بغیر کسی ججھک کے اپنی سمجھی ہوئی بات اپنے دوسرے ساتھوں کو سمجھا سکتا ہے بلکے دیگر کھیل اورتعلیمی مقابلوں میں بھی نمایا مقام حاصل کرتا ہے۔ان بچوں کے شخصیت کو ابھارنے میں سب سے بڑا ہاتھ میم شلزا اور ان کے اسٹاف میمبر کا ہے۔
کراچی کے شہر کے مختلف اسکولوں میں اپنی تدریسی فرائض کو انجام دیتے ہوئے ہیڈ مسڑیس شلزا صدف نے جو کچھ وہاں سیکھا اب وہ تمام صلاحیتیں اپنے اسکول اور اساتذہ میں اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔انکا ماننا ہے کہ کوشش کرنے سے سارے مشکل کاموں کا حل آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔سادہ اور کھری طبعیت کی ما لک شلزا کا کہنا ہے کہ بچے کسی بھی ملک کے مستقبل کا سرمایا ہوتے ہیں۔انکی پڑھائی کے معاملے میں کوئی سمجھوتا یا کمی بیشی نہ ہو۔علم کی تعلیم دینا اور ساتھ ساتھ بچوں کو اس قابل بنانا کہ وہ بھی اپنی حاصل کردہ تعلیم سے اپنے ارد گرد کے لوگوں میں بھی شعور پیدا کر سکے۔
انکے اسکول میں پڑھانے والی اساتذہ کا کہنا ہے کہ شلزا کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسکول کے بچوں میں ایسا اعتماد پیدا کرنا ایسی صلاحیت پیدا کرنا کہ اسکول میں پڑھنے والے بچے اپنی بات خود اعتمادی کے ساتھ آگے بیان کر سکے۔اور یہ بات ثابت بھی ہوئی کہ جما عت نرسری سے لے کر جماعت پانچویں تک کے طالب علم اپنی نظموں اپنی کتابوں کے اسباق کو پریزنٹیشن کے ذریعے پنے دوسرے ساتھی طالب علم کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں یہ کہ سکتا ہوں اور یہ کر سکتا ہوں۔۔اور یہ سب تبھی ممکن ہوا جب میم شلزا اور انکے اسکول کے اساتذہ نے بچوں کی ان صلاحیتوں کو ابھارا۔میم شلزا جانتی ہیں کہ کس میں کتنی صلاحیت ہے اور کس طرح سے ان کی صلاحیتوں کو کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اور اپنی بات کو منوایا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اسکول میں ان کے زیر نگرانی میں پڑھنے والے بچے اس قابل ہوئے ہیں کہ وہ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ہر کام میں نمایاں نظر آتے ہیں۔؎

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi, at Institute of Media & Communication Studies, University of Sindh, Jamshoro, Sindh Pakistan

Sunday, 1 March 2020

Jawaria Zia - Urdu Profile BS 71 Not checked

Not checked

Profile_Jawaria Zia_BS_Roll 71


ایڈووکیٹ معراج الدین انصاری جسکوکبھی شکست نہیں ہوئی
   پچھتر سالہ معراج الدین کی یہ حالاتِ زندگی کہ سچ کی بنیادپرکیس لڑکرجیتنااورآج تک کوئی شکست نا حاصل کرنے کی وجہ سے لوگوں کاانکی طرف مائل ہونااورلوگوں کی خدمت میں سرانجام دیناہے۔
پاکستان کے شہرکراچی کے سٹی کورٹ میں بیٹھنے والے اس کامیاب شخص ایڈووکیٹ معراج الدین نے لوگوں کوکے لیے اپنی کافی محنت ان پروقف کی۔بڑے بڑے وکیلوں کاان سے مشورہ کرنااورکیس کوہرحال میں سچ کی بنیادپرجیتناانکی خوبی رہی ہے۔یوں تواوربھی وکیل موجودہیں لیکن لوگوں کاانتخاب زیادہ ترانکاہی ہوتاہے۔کیونکہ لوگوں کوانکاطریقہ کارپسندآتاہے۔انکی خوبی کاباعث ہرکیس کوہینڈل کرناہے پھرچاہے وہ نیب کاکیس ہویاچیرمین کاانہوں نے کبھی بھی کسی کیس میں شکست نہیں کھائی۔
 بہت کم عمرمیں ہی انہوں نے اپنے والدکاسہارابننے کی کوشش کیں۔اپنے گھروالوں کے حالات کومدِنظررکھتے ہوئے انہوں نے محنت کرنے کاسوچااوراسی کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی کوبھی جاری رکھا۔11سال کی عمرمیں انہوں نے اپنے گھروالوں کے آرام کے لیے بہت محنت کی جیسکہ آم،آلوبخاراورساتھ ہی سندل کاشربت بھی بیچااورپنی ماں کوروزکے دوروپے لاکردیاکرتے تھے۔اس وقت کے زمانے میں پیسہ کمانہ اتناآسان نہیں تھا۔انہوں نے اپنے گھروالوں کے لیے دن رات ایک کردیا۔اتنی چھوٹی عمرمیں اپنے گھروالوں کاسہارابنناکوئی معمولی بات نہیں تھی۔اسکے بعدمیٹرک کیااوراچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔پھرراولپنڈی واہ کینٹ میں ٹیچراورلیباٹری ایسسٹینٹ بھی رہے جسکی تنخواہ80روپے تھے۔اسکے بعدجیسے جیسے محنت کرتے رہے تنخواہ بھی105روپے ہوگئی پھرٹیچرکی حیثیت سے ایف-اے کاامتحان دیاکیونکہ اس زمانے میں پرائیوٹ نہیں دیاجاتاتھا۔پھرلاہورچلے آئے اورلاہورمیں آکرنیازی کالج میں داخلالیااورساتھ ہی نوکری کے سلسلے میں پھرتے رہے اسی کے ساتھ ساتھ واپڈامیں نوکری کی اورپھرایریگیشن ہیڈآفس میں بھی کام کیا۔اسی طرح دیگر محکموں میں انہوں نے محنت اورلگن سے کام کیاپھراسکے بعدبی-اے کرنے کی کوشش کی کیونکہ بی-اے کرنے کاپرائیوٹ سسٹم نہیں تھاتوڈاریکٹ کالج کے ذریعے کیا۔اس وقت زیادہ ترگورنمنٹ ادارے موجودتھے۔اسی طرح انہوں نے اپنی محنت کوجاری رکھتے ہوئے ہرمنزل کوپارکیااوراپنے اس محنت کے جذبے کوبرقراررکھا۔اپنی زندگی میں بہت سی شکلات کاسامناکرتے ہوئے اپنی پڑھائی کونہیں چھوڑا۔اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی صورت میں انکانام لاہورکے ''پنجاب کالج لاء''میں آگیاتھا۔لیکن عمرکی وجہ سے انہیں داخلانہیں مِلاکیونکہ ایک ملازم آدمی کوامتحان دینے کی اجازت اورگریجویشن کرنے کی بھی۔لیکن ایک پرائیوٹ آدمی کواجازت نہیں تھی کہ وہ غیرمنظورشُدہ کالج کے ذریعے اس میں داخلالے۔اسی وجہ سے وہ تنگ آکرکراچی آگئے اوریہاں آکرانھوں نے1987میں ''سندھ لاء کالج'' میں داخلالیاپھریہاں سے ایل-ایل-بی کیااورایل-ایل-بی کرنے کے بعدانکی پریکٹس جاری ہوگئی مزیدپریکٹس بڑھتی چلی گئی اوراس وقت سے لے کرابھی تک پریکٹس میں ہیں اوراب اس وقت سندھ ہائی کورٹ  کے لائیومیمبرہیں۔اس پریکٹس سے انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں اورایک بھتیجے کوبھی لاء کرایا۔بے تہاشہ وکیلوں کاانکے ساتھ کام کرنے کامعمول ہے۔جسکی اہم وجہ ہی یہی ہے کہ وکیلوں کواُن سے تجربہ سیکھنے کوملتاہے جسکی بناء پرآج کئی لوگ اس چیمبرسے وکیل بن کرہائی کورٹ کے جج بن گئے ہیں۔ووٹرزکاانتخاب زیادہ تر معراج الدین کے حق میں اس لیے  ہوتاہے کیونکہ یہ کسی سے جھوٹ نہیں بولتے نہ دھوکادیتے ہیں اورپھرتعلیم کے معاملے میں جولوگ انکے پاس آتے ہیں یاتجربہ لیتے ہیں ان سے کوئی دغابازی نہیں کرتے ہیں اورنہ ہی ان سے کوئی معاوضہ لیتے ہیں۔
محنت کے ا س سفرمیں ایک اہم واقعہ انکی زندگی میں پیش آیا۔جس سے انکواپنی زندگی میں بہت بڑاسبق ملا۔محنت کی اس کہانی کاتعلق نمازسے ہے۔معراج الدین پانچوں وقت کی نمازیں پڑھتے تھے۔ ایک دفعہ جب وہ جمعہ کی نمازکے لیے مسجد گئے اورجاکراگلی صَف میں بیٹھ گئے۔جیسے ہی نمازکاوقت ہواتولوگوں نے ا نہیں پیچھے کرکرکے مسجدکی آخری صَف میں پہنچادیا۔یہاں تک کہ انھیں مسجدسے باہرکردیاگیالیکن ا نہوں نے پھربھی اپنی نمازپوری پڑھی۔لوگوں کی اس حرکت سے وہ بہت مایوس ہوئے اوراس وجہ سے انہوں نے مسجدجاناچھوڑدیااوراپنے گھرمیں نمازپڑھنے لگ گئے اورجہاں مناسب سمجھاوہاں نمازپڑھ لی۔لیکن انہوں نے کبھی نمازپڑھنانہیں چھوڑی اپنی نمازکوقائم رکھتے ہوئے زندگی کے اس سفرمیں آگے بڑھتے رہے۔                                                        
                         جن کابھروسہ اللہ ہو،ان کی منزل کامیاب ہے........
کامیابیوں کی اس بھاگ دوڑمیں انہوں نے بڑی محنت اورلگن سے ہرکام کوباخوبی سرانجام دیا۔جسکی بناء پرآج وہ ایک کامیاب شخص ہیں۔

Awais Muneer Profile Urdu BS 89

Why is sent again? 
تحریر:محمد اویس منیر 
کلاس:بی ایس پارٹ تھری 
رول نمبر: ۹۸
سرجن پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش.
ڈاکٹر رسول بخش سرجن جنکا کوئی پرایؤئٹ کلینک نہیں ہیں اور شاعری میں بھی عبور حاصل ہیں۔
لوگوں کی خدمت کرنا انکا مشن اور ان کی عبادت ہیں۔
۳۲  اکتوبر ۵۶۹۱کو ضلح سانگھڑ کے ایک چھوٹے سے گاؤں جھول میں پیدا ہوئے،ڈاکٹر رسول بخش نے پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک تعلیم اپنے آبائی گاؤں جھول میں حاصل کی اور پھرڈاکٹر بننے کی خوائش لے کر جامشورو چلے گے،اور میڈیکل یونیوسٹی میں اپنی محنت  اور سچی لگن سے داخلا ٹسٹ پاس کر لیا۔
اعظیم شخص جن کا مشن لوگوں کی خدمت کرنا ہے سنیئر پروفسر ڈاکٹر رسول بخش جہنوں نے اپنے اس پروفیشن کا کبھی بھی غلط فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ انہوں نے کبھی پرائیویٹ کلنیک کو ترجی نہیں دی اور نہ کبھی پرائیویٹ کلنیک کھولا،ڈاکٹر رسول بخش نے ہر اتور کو سا نگھڑکے لوگوں کے لئے فری چیک اپ کرنے آتے ہیں۔
سانگھڑ سندھ سے تعلق رکھنے والی یہ شخصیت سرجن ڈاکٹر  رسول بحش ہے۔
پچاس سال سے لوگوں کی خدمت فری میں کر رہے ہیں اس ان کا حسن اتفاق کہے یا کچھ اور انیس کی دہائی میں پیدا ہونے والا ڈاکٹر  رسول بخش ایک غریب گھر میں پیدا ہوا ڈاکٹر رسول بخش نے اپنی تعلیم گورئمنٹ بوا ئز ھائی جھول سے حاصل کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں اے ون گڑیڈ اپنی محنت اور لگن سے حاصل کیا۔ڈاکٹررسول بخش نے تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے صبح کو یونیورسٹی جاتے تھے اور شام کے وقت پارٹ ٹائم نوکری کرتے تاکے اپنی تعلیم کو مکمل کر سکھے۔
ڈاکٹر رسول بخش نے سماجی کام کی ابتدا نویں جماعت سے شروع کی وہ بتاتے ہیں کے ان کے علاقے میں ایک لڑکا تھا اس کے والد کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کے وہ اپنے لڑکے کا علاج کروہ سکہے تو پھر ڈاکٹررسول بخش نے لوگوں اوراپنے قریبی دوستوں سے اس لڑکے کے لئے مدد مانگنی شروع کی اور انہوں نے اس دن ہی فیصلا کر لیاکے وہ ایک اچھے ڈاکٹر بن کر غریب لوگوں کی مدد فری میں کرے گے انہوں نے اس لڑکے کے علاج کے لیے لوگوں سے کچھ پیسے ادھارلے کر اس لڑکے کا علاج کروایا۔
ڈاکٹر رسول بخش نے اپنی گریجویشن۰۹۹۱ میں جامشورو لیمس یونیورسٹی سے کی،گریجویشن مکمل کر نے کے بعد ڈاکٹر رسول بخش نے لیمس یونیورسٹی ہسپتال میں لوگوں کی خدمت کرنا شروع کیا انہوں نے کبھی بھی پرائیویٹ کلینک کھولنے کا نہیں سوچا ڈاکٹر رسول بخش نے ہمیشہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ممکن سے ممکن کوشیشے کی ہے اتنے مشہور سرجن ہونے کے بعد بھی انہوں نے پرائیویٹ کلینک کو کبھی ترجی نہیں دی۔  
ڈاکٹر رسول بخش نہ صرف ڈاکٹر سرجن ہے وہ ایک بہت اچھے اور سچے ٹیچر بھی ہے وہ اپنی محنت اور سچی لگن سے اس مقام پر پنہچے ہے،
ڈاکٹر رسول بخش لیمس میں ایسویٹ پروفسر آف سرجری کام کر رہے ہے اور ٹیچرایسویٹ کے جنرل سیکئریڑی بھی کام کر رہے ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش نے بیس ریسرچ آرٹیکل بھی لیکھے جو انکے  پبلش بھی ہوئے ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش ممبر سوئٹی آف سرجن پاکستان میں بھی ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش اسٹوڈنٹ آفئرز کے ڈائرکٹربھی کا م کر رہے ہے انہوں نے کبھی بھی اپنی پوسٹ کا غلط فائدہ استعمال نہیں کیا۔
شاعر:
ڈاکٹر رسول بخش نے اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا،
ڈاکٹر رسول بخش کو شاعری میں دلچسپی اور شاعری انہوں نے نو جوانی میں ہی شروع کر دی تھی ڈاکٹر رسول بخش سندھی اردوزبان میں بھی شاعری لکھی ہے مگر کبھی انہوں نے اپنی لکھی ہوئی شاعری کو کتاب کی صورت نہیں دی،ڈاکٹر رسول بخش کو صوفی سنگیت میں بھی عبور حاصل ہے،ڈاکٹر رسول بخش کے والد بھی شاعری کرتے تھے اور ڈاکٹر رسول بخش کو شاعری کا فن اپنے والد صاحب سے ہی ملا ہے۔
حسن پرست:
ڈاکٹر رسول بخش نے شادی کے معا ملے میں انہوں نے پہلے لوگو ں کی خدمت کا سوچا اور پھر شادی کا فیصلا کیا،ڈاکٹر رسول بخش کے قریبی دوستوں اور رشتے دار کا کہنا ہے کے ڈاکٹر رسول بخش نے شادی اپنے ہی خاندان سے کی ہے اور ان میں سے ان کے چار بچے ہے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش نے ہمیشہ سچے دل سے لوگوں کی خدمت کی اور ان کو اس کا اجڑ اپنے بچوں میں میلا ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی ڈاکٹر بن رہے ہے اور سب سے چھوٹا بیٹابھی میڈیکل کی تیاری کر رہا ہے جو لوگ سچے دل سے انسان ذات کی خدمت کرتے ہے اللہ اس کو اجڑ دنیا میں دے دیتا ہے اس کی ایک زندہ مثال ڈاکٹر رسول بخش ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش تین بار ممبر آف سینٹ لیمس مقرار ہوئے ہے ڈاکٹر رسول بخش کی اتنی کامیابیوں کے بعد بھی انہوں نے لوگوں کی خدمت کرنانہیں چھوڑااور وہ آج بھی لوگوں کا فری میں خدمت کرتے ہے اور وہ لوگوں کو سول ہسپتال میں آنے پر ترجی دیتے ہے ڈاکٹر رسول بخش نے پچاس سے زیادہ سال سے اپنا پرائیویٹ کلینک نہیں کھولا وہ آج بھی اپنے مشن پر چل رہے ہے۔اور وہ اپنے بچوں کو بھی اس مشن پر چلنے کی اصلاح کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر رسول بخش نے(fcps)  اف سی پی ایس پوسٹ  گریجویشن۲۰۰۶ میں پوری کی اس میں بھی اف سی پی ایس کا امتحان ڈاکٹر رسول بخش نے اچھے نمبروں سے پاس کیا اور  اپنے آپ کو منوایا ڈاکٹر رسول بخش لیمس میں مریضوں کو بہترطبی سہو لتوں کی فراہمی کے لیے آج بھی وہ اپنی کوشیش جاری رکھے ہوئے ہے۔ڈاکٹر رسول بخش نے اپنے ٹیچنگ پروفیشن میں ہمشہ طالب علم کی مدداور ان کی اصلاح کرنے کی کوشیشے کی ہیں۔ڈاکٹر رسول بخش نے ہر شعبے میں ہمشہ اپنے آپ کومنوایا ہیں اورہمشہ لوگوں کی مدد سچے دل سچیی لگن سے کی ہیں۔ڈاکٹر رسول بخش کے بچے بھی اپنے والد کے نقشے قدم پہ چل رہے ہے ڈاکٹر رسول بخش  کے دوست ورشتدار  ان کو آج بھی بولتے ہیں کے آپ اپناپرایؤئٹ کلینک کھولے امگر وہ ان کو یہی بولتے ہیں کے انسان ذات کی خدمت فری میں کرنا ہی میرا مشن ہے اور میں اس مشن پر قائم ہو  ڈاکٹر رسول بخش نے اپنے پچاس کے کیریئر میں پر ایؤئٹ کلینک کو کبھی بھی ترجی نہیں دی  ڈاکٹر رسول بخش انسانی ذات خدمت کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے   ڈاکٹر رسول بخش ایک ا عظیم انسان ہیں۔


Not checked
تحریر:محمد اویس منیر 

Profile M Awais Muneer 2k18/MC/89 Urdu


رول نمبر: 89 
سرجن پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش جا کا کوئی پرائیویٹ کلینک نہیں.
ڈاکٹر رسول بخش سرجن جنکا کوئی پرایؤئٹ کلینک نہیں ہیں اور شاعری میں بھی
عبور حاصل ہیں۔
لوگوں کی خدمت کرنا انکا مشن اور ان کی عبادت ہیں۔
۳۲  اکتوبر ۵۶۹۱کو ضلح سانگھڑ کے ایک چھوٹے سے گاؤں جھول میں پیدا ہوئے،ڈاکٹر رسول بخش نے پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک تعلیم اپنے آبائی گاؤں جھول میں حاصل کی اور پھرڈاکٹر بننے کی خوائش لے کر جامشورو چلے گے،اور میڈیکل یونیوسٹی میں اپنی محنت  اور سچی لگن سے داخلا ٹسٹ پاس کر لیا۔
اعظیم شخص جن کا مشن لوگوں کی خدمت کرنا ہے سنیئر پروفسر ڈاکٹر رسول بخش جہنوں نے اپنے اس پروفیشن کا کبھی بھی غلط فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ انہوں نے کبھی پرائیویٹ کلنیک کو ترجی نہیں دی اور نہ کبھی پرائیویٹ کلنیک کھولا،ڈاکٹر رسول بخش نے ہر اتور کو سا نگھڑکے لوگوں کے لئے فری چیک اپ کرنے آتے ہیں۔
سانگھڑ سندھ سے تعلق رکھنے والی یہ شخصیت سرجن ڈاکٹر  رسول بحش ہے۔
پچاس سال سے لوگوں کی خدمت فری میں کر رہے ہیں اس ان کا حسن اتفاق کہے یا کچھ اور انیس کی دہائی میں پیدا ہونے والا ڈاکٹر  رسول بخش ایک غریب گھر میں پیدا ہوا ڈاکٹر رسول بخش نے اپنی تعلیم گورئمنٹ بوا ئز ھائی جھول سے حاصل کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں اے ون گڑیڈ اپنی محنت اور لگن سے حاصل کیا۔ڈاکٹررسول بخش نے تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے صبح کو یونیورسٹی جاتے تھے اور شام کے وقت پارٹ ٹائم نوکری کرتے تاکے اپنی تعلیم کو مکمل کر سکھے۔
ڈاکٹر رسول بخش نے سماجی کام کی ابتدا نویں جماعت سے شروع کی وہ بتاتے ہیں کے ان کے علاقے میں ایک لڑکا تھا اس کے والد کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کے وہ اپنے لڑکے کا علاج کروہ سکہے تو پھر ڈاکٹررسول بخش نے لوگوں اوراپنے قریبی دوستوں سے اس لڑکے کے لئے مدد مانگنی شروع کی اور انہوں نے اس دن ہی فیصلا کر لیاکے وہ ایک اچھے ڈاکٹر بن کر غریب لوگوں کی مدد فری میں کرے گے انہوں نے اس لڑکے کے علاج کے لیے لوگوں سے کچھ پیسے ادھارلے کر اس لڑکے کا علاج کروایا۔
ڈاکٹر رسول بخش نے اپنی گریجویشن۰۹۹۱ میں جامشورو لیمس یونیورسٹی سے کی،گریجویشن مکمل کر نے کے بعد ڈاکٹر رسول بخش نے لیمس یونیورسٹی ہسپتال میں لوگوں کی خدمت کرنا شروع کیا انہوں نے کبھی بھی پرائیویٹ کلینک کھولنے کا نہیں سوچا ڈاکٹر رسول بخش نے ہمیشہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ممکن سے ممکن کوشیشے کی ہے اتنے مشہور سرجن ہونے کے بعد بھی انہوں نے پرائیویٹ کلینک کو کبھی ترجی نہیں دی۔  
ڈاکٹر رسول بخش نہ صرف ڈاکٹر سرجن ہے وہ ایک بہت اچھے اور سچے ٹیچر بھی ہے وہ اپنی محنت اور سچی لگن سے اس مقام پر پنہچے ہے،
ڈاکٹر رسول بخش لیمس میں ایسویٹ پروفسر آف سرجری کام کر رہے ہے اور ٹیچرایسویٹ کے جنرل سیکئریڑی بھی کام کر رہے ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش نے بیس ریسرچ آرٹیکل بھی لیکھے جو انکے  پبلش بھی ہوئے ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش ممبر سوئٹی آف سرجن پاکستان میں بھی ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش اسٹوڈنٹ آفئرز کے ڈائرکٹربھی کا م کر رہے ہے انہوں نے کبھی بھی اپنی پوسٹ کا غلط فائدہ استعمال نہیں کیا۔
شاعر:
ڈاکٹر رسول بخش نے اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا،
ڈاکٹر رسول بخش کو شاعری میں دلچسپی اور شاعری انہوں نے نو جوانی میں ہی شروع کر دی تھی ڈاکٹر رسول بخش سندھی اردوزبان میں بھی شاعری لکھی ہے مگر کبھی انہوں نے اپنی لکھی ہوئی شاعری کو کتاب کی صورت نہیں دی،ڈاکٹر رسول بخش کو صوفی سنگیت میں بھی عبور حاصل ہے،ڈاکٹر رسول بخش کے والد بھی شاعری کرتے تھے اور ڈاکٹر رسول بخش کو شاعری کا فن اپنے والد صاحب سے ہی ملا ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش نے شادی کے معا ملے میں انہوں نے پہلے لوگو ں کی خدمت کا سوچا اور پھر شادی کا فیصلا کیا،ڈاکٹر رسول بخش کے قریبی دوستوں اور رشتے دار کا کہنا ہے کے ڈاکٹر رسول بخش نے شادی اپنے ہی خاندان سے کی ہے اور ان میں سے ان کے چار بچے ہے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش نے ہمیشہ سچے دل سے لوگوں کی خدمت کی اور ان کو اس کا اجڑ اپنے بچوں میں میلا ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی ڈاکٹر بن رہے ہے اور سب سے چھوٹا بیٹابھی میڈیکل کی تیاری کر رہا ہے جو لوگ سچے دل سے انسان ذات کی خدمت کرتے ہے اللہ اس کو اجڑ دنیا میں دے دیتا ہے اس کی ایک زندہ مثال ڈاکٹر رسول بخش ہے۔
ڈاکٹر رسول بخش تین بار ممبر آف سینٹ لیمس مقرار ہوئے ہے ڈاکٹر رسول بخش کی اتنی کامیابیوں کے بعد بھی انہوں نے لوگوں کی خدمت کرنانہیں چھوڑااور وہ آج بھی لوگوں کا فری میں خدمت کرتے ہے اور وہ لوگوں کو سول ہسپتال میں آنے پر ترجی دیتے ہے ڈاکٹر رسول بخش نے پچاس سے زیادہ سال سے اپنا پرائیویٹ کلینک نہیں کھولا وہ آج بھی اپنے مشن پر چل رہے ہے۔اور وہ اپنے بچوں کو بھی اس مشن پر چلنے کی اصلاح کر رہے ہیں۔

Sonia Shaikh Profile Urdu BS 144


Not checked
For profile providing foto is responsibility of writer
پروفائل۔ سونیہ شیخ۔ بی ایس رول نمبر144۔

مسز راجا کی تنہائی
زندگی خدا کی طرف سے دی ہوئی ایک عجیب بھید ہے۔ ہر انسان کو اپنی عرصہء حیات میں مختلف للکاروں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے، جس کا گہرا اثر ان کی طبعیت و مزاج پر پڑتا ہے۔انسان کے لیے کوئی بھی چیز حاصل کرنا ناممکن نہیں، بس غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے مقصد کو پانے کی لگن اور اسے حاصل کرنے کی جستجو اس کی مخصوص کہانی بن جاتی ہے۔جو اسے ہر ایک شخصیت سے منفرد کر تی ہے۔ اور وہ کہانی کسی کے لیے سبق اور کسی کے لیے عبرت کا باعث بنتی ہے۔ ہر انسان کی اپنی کہانی ہوتی ہے، اسی طرح سمیرہ کی بھی ایک اپنی کہانی ہے۔
سمیرہ ایک ایسی عورت کا نام ہے جوکسی مرد کے سہارے کی محتاج نہیں۔فقط ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ باطنی خوبصورتی کی بھی مالکن ہے۔ بات کرنے کا انداز ایسا ہے جسے ہم اپنے دوست سے بات کر رہے ہوں۔ مذاق کرو تو ہنساتی ہے، مگر غصہ بھی غضب ناک کرتی ہے۔ ان کے چہرے کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کئی ایسی باتیں ہیں جو بولی نہیں جاسکتی مگر وہ چہرے سے عیاں ہیں۔
18جون سمیرہ کی پیدائش کے بعد آج تک انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی مشکلاتوں کا سامنہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی بڑے کا سایہ اپنے سر پر زیادہ وقت نہیں دیکھا۔ رشتے میں جتنے بھی بزرگ تھے وہ ان کو بہت پہلے ہی اکیلا چھوڑ گئے۔ جب چودہ برس کی تھیں، ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ ماں کی جدائی میں بڑی تکلیف میں رہتی تھی۔ کیوں کہ والدہ کے انتقال کے بعد پورا گھر بکھر گیا۔ روز کے جگڑوں اور گھر کے مسائل سے بچنے کے لیے والد نے سمیرہ کی 16 برس ہی میں شادی کردی۔ شادی کے بعد ان پر بہت ذمے داریاں آئیں۔ ساس کی صورت میں ان کو ماں کا پیار نصیب ہوا پر کچھ وقت کے بعد ان کا بھی سایہ سر سے ہٹ گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خود کو سنبھالا اور اپنے گھر پر توجہ دی تاکہ اپنے گھر کے کام بخوبی انجام دے سکیں۔ سمیرہ کبھی کبھی ایسے ہی کارخانے میں جا کر اپنے شوہر سے باتوں باتوں میں کام سیکھتی تھی۔ اس کا فارغ وقت اپنے شوہر کے ساتھ کام سیکھتے ہی نکل جاتا تھا۔ وہ وقت ان کی زندگی کا بڑا خوبصورت وقت تھا جب ان کے پاس سب کچھ تھا اور خوش رہنے کی وجہ بھی تھی۔ مگر کام سکھتے وقت ان کو اس بات کا گمان بھی نا تھا کہ آگے چل کر ایک ایسا وقت آئے گا جب یہ خود پورا کاروبار چلائیں گی۔
چھ جون 2018 میں ان کی زندگی نے بڑا سخت موڑ لیا۔ ان کی زندگی میں ایسی تبدیلی آئی جس نے سمیرہ کی شخصیت کو بدل کر رکھ دیا۔ اب وہ اپنی زندگی میں بہت مصروف رہنے لگی ہیں۔اپنے گھر کے کام کے بعد صرف کاروبار میں مصروف رہتی ہے۔ یہ معاشرے میں ایک بڑی بردبار عورت کی مثال ہیں۔ جو اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہیں جو ان کے کارخانے کے اوپر بنا ہوا ہے۔ تقریبا دو سالوں سے وہ اپنا کاروبار سنبھالتی آرہی ہیں۔ شروعات میں ان کو اپنا کاروبار سنبھالنے میں بڑی مشکل ہوئی کیوں کہ اچانک سے پورا کاروبار سنبھالنا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔ لکڑی کا چھاپہ کوئی آسان کاروبار نہیں جو کوئی بھی اکیلے میں کر لے۔ پہلے لکڑی کی گسائی کی جاتی ہے۔ گسائی کے بعد کٹائی اور پھر اس پر چھاپہ بنایا جاتا ہے۔ جس کے بعد کراچی میں اس مال کو پہنچا کر لین دین کی جاتی ہے۔ یہ سارا کام عورت ذات ہوکر سمیرہ اکیلے میں کرتی ہے۔ یقینا کوئی بھی کاروبار سنبھالنا آسان نہیں ہے۔ پر ایسی مزدوری کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ لیکن سمیرہ یہ کام بھی اکیلے میں کرتی ہے۔ ناصرف یہی اپنے گھر کو  اور اپنے بچوں کو بھی خود سنبھالتی ہے۔ان کو اسکول، ٹیوشن اور مدرسہ پڑھانا ان کی ہی ذمے داری ہے۔ اپنے بچوں کو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ ان کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ان کی ہر خوشی کا بھی پورا خیال رکھتی ہیں۔کبھی نانی کے یہاں لے جاکر انہیں باہر سیر و تفریح کروا لیتی ہے اور کبھی کسی تہوار میں لے جاتی ہے۔
سمیرہ ایک ایسی زندگی بسر کررہی ہے جس میں ان کا نہ کسی کے پاس اتنا آنا جاناہے نہ ہی کوئی ان کے پاس اتنا آتا جاتا ہے۔یہ اکیلے ہی پورے معاشرے کے خلاف اپنے اور اپنے بچوں کے خلاف اپنے حق کے لیے لڑتی ہے۔ انہیں کبھی کبھی کورٹ کے چکر کی وجہ سے اپنے بچوں کو گھر میں بند کر کے جانا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے کچھ لوگ تو ان سے گھر کا دروازہ بند کر جانے پر ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔اپنے ہوکر ان کی مجبوری سمجھتے نہیں الٹا اس پر طعنہ مارتے ہیں۔ سمیرہ ان تمام باتوں کو برداشت کرکے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگی رہتی ہے۔ اب ان کی کوئی کاروبار چلانے پرطعنے دے یا گھر کو بندکر جانے پر اعتراض کرے ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس ان کا یہ یقین ہے کہ خدا نے اگر اس بڑی آزمائش میں رکھا ہے تو وہ ضرور اس کا اچھا اجر دے گا۔
سمیرہ کو دیکھ کر یقین نہیں ہوگا کہ وہ نوں گرد یتیمی بچوں کی ماں ہیں۔ اپنے بچوں کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیا اور اپنے گھر کو بکھرتے بکھرتے ہوئے سنبھالا۔ ان کو اپنے بچوں کو چھوڑ کر جانے کا خیال بھی نہیں آیا۔حالانکہ اس معاشرے میں اکیلے رہنا اور معصوم بیٹیوں اور بیٹوں کو سنبھالنا مشکل ہے۔ ان کو ہر وقت اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر رہتی ہے۔ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے بڑے ہوکر کامیاب ہوں کسی کے محتاج نہ بنیں۔ اس لیے وہ دن رات ان کے لیے محنت کرتی ہے۔نہ اپنے آرام کا خیال رکھتی ہیں نہ اپنی صحت کا خیال رکھتی ہے فقط ایک ہی فکر ان کو رہتی ہے کہ میرے بچے خوش و سلامت رہیں۔ کسی چیز کی کمی ان کو نہ رہے۔  

Monday, 24 February 2020

Muhammad Azam Feature Urdu BS 159-2k17 Referred back

Referred back
یہ فیچر ہے یا ارٹیکل؟ یہاں پر لکھنا چاہئے۔ 
پیراگراف نہیں کئے فیچر رپورٹنگ بیسڈ ہوتا ہے اور اس میں معلومات دلچسپ طریقے سے دی جاتی ہے۔ 
آپ کا موضوع کیا تھا؟ تلک چارحی آج یا پھر تلک چاڑھی آج اور کل؟ 
 کہیں پر بھی فل اسٹاپ نہیں۔ 
 ٹھیک کر کے دوبارہ بھیجو، اور جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان کو ٹھیک سے دیکھو اور لکھو
 کوئی تصیور جو تلک چاڑھی کی نمائندگی کرتی ہو،
 یہ فیچر آپ بائیس فروری کو کیوں بھیج رہے ہو؟ کیا ریفرر بیک ہے؟ 
محمداعظم  شیخ   بی ایس تھری
  2k17/18/MC/159
تلک چاڑی
تلک چاڑی حیدرآباد کی ایک بہت مشہور اور مصروف شاہراہ ہے اس چاڑی پر لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اور رات گئے تک گاڑیوں کا آنا جانا بھی لگا رہتا ہے اس چاڑی کو ایک خاص اہمیت یہ بھی حاصل ہے مذہبی جلوس ربیع الاول اور محرم کی ریلیاں یا سیاسی ریلیاں بھی اسی چاڑی سے ہوتی ہوئی گزرتی ہیں اس چاڑی پر کمرشل دکانیں اور رہائشی عمارتیں موجود ہیں اور کچھ عمارتیں تو آزادی پاکستان سے بھی پہلے کی ہیں جن میں گرو گرپت مندر اور لاکھانی مینشن اب بھی موجود ہیں اگر اس چاڑی کے ماضی کے بارے میں دیکھا جائے تو سب سے پہلے اس چاڑی کا نام ہی غور طلب ہے کہ اس چاڑی کا نام تلک چاڑی کیوں اور کیسے رکھا گیا اس چاڑی کا نام تلک چاڑی بیسویں صدی کے آغاز میں ایک آزادی پسند کارکن بال گنگا دھر تلک کے نام پر رکھا گیا جو ایک ہندوستانی قوم پرست تھے جنہوں نے محمد علی جناح کے ساتھ مل کر انڈین ہوم رول لیگ قائم کی اور مکمل آزادی کا مطالبہ کیا تلک چاڑی پر ایک پارک بھی ہوا کرتا تھا جو کہ اب ایک مسجد بن چکا ہے جس کو پارک مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے تلک چاڑی کاروبار کے حساب سے ایک معروف شاہراہ ہے اگر آپ کپڑے پہننے کے شوقین ہیں تو یہاں مرد و زن دونوں کے حساب سے عمدہ اور بہترین کوالٹی کے برانڈڈ اسٹور اور لوکل دکانیں موجود ہیں اور اگر انہیں کپڑوں کی سلائی کروانی ہو تو بھی کوئی پریشانی کی بات نہیں کیونکہ بہترین درزیوں کی وجہ سے بھی یہ چاڑی بہت مشہور ہے شلوار قمیض کرتا شلوار حتیٰ کے شادی بیاہ کی شیروانی اور سوٹ کی سلائی کی بہترین دکانیں اس چاڑی پر موجود ہیں چشمہ اور گھڑی کی مارکیٹ بھی تلک چاڑی پر موجود ہے جہاں مختلف اور منفرد انداز کے چشمے لینس اور گھڑیاں فروخت کی جاتی ہیں کھانے پینے کے لحاظ سے بھی اس چاڑی پر بہت سی دکانیں ہیں جہاں حلیم بریانی چھولے کی چاٹ فروٹ چاٹ گول گپے پکوڑے اور جلیبی جیسی بہت سے مزیدار اور قسم قسم کے انواع و اقسام کے کھانے دستیاب ہوتے ہیں سردی کی راتوں میں سوپ اور گرمی کی راتوں میں سوڈا لمکا کے ٹھیلے بھی اس چاڑی پر موجود ہوتے ہیں تعلیم کے اعتبار سے بھی اس چاڑی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے حیدرآباد شہر کے بہترین اسکول کالجز اور تعلیمی ادارے اور لائبریری وغیرہ یہاں موجود ہیں آج سے چند سال پہلے اس چاڑی پر ایک پرانی کتاب فروش کی دکان بھی تھی جہاں نئی اور پرانی کتابیں ڈائجسٹ اور رسالے وغیرہ انتہائی مناسب قیمت پر بیچے اور خریدے جاتے تھے مگر اب یہ دکان ایک کھانے پینے کی اشیاء کی دکان بن چکی ہے اس شاہراہ پر ایک پرانا اور قدیم مندر بھی موجود ہے جس کا نام گرو گرپت مندر ہے یہ مندر تقسیم ہند سے بھی پہلے کا ہے اس مندر کی تعمیر 1938 میں ہوئی اور 1944 میں مندر کی تزئین  و آرائش کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا مندر میں لکڑی کا خوبصورت کام کیا گیا ہے اور یہاں ہندو دیوی دیوتاؤں کے علاوہ گرونانک اور سکھ اکابرین کی تصاویر بھی آویزاں ہیں تلک چاڑی پر عیسائی برادری کے لئے بھی ایک چرچ موجود ہے جس کا نام سینٹ فلپس چرچ ہے جو کہ عیسائیوں کے دوسرے بڑے فرقے پروٹسٹنٹ سے تعلق رکھتا ہے اس چرچ میں تقریبا دو سو لوگوں کی گنجائش ہے عیسائی برادری اس چرچ میں اپنی مخصوص عبادت کرتے ہیں اور اپنے تہوار مناتے ہیں اساتذہ کا تربیتی ادارہ بھی اس چاڑی پر موجود ہے جہاں اساتذہ کو تربیت دی جاتی ہے اور ان کے رہنے کے لئے ایک ہاسٹل بھی موجود ہے ان سب خصوصیات کی وجہ سے حیدرآباد کے لوگوں کے لئے یہ شاہراہ نہایت اہمیت کی حامل ہے

Saturday, 15 February 2020

Awais Muneer- Feature- Urdu 89

Pls check noting on first version, is ti carried out?                                                                                                   
 نام محمد اویس منیر 
بی ایس پارٹ تھری 
   رول نمبر: ۸۹                                                  جھول کے کتے اور سندھ  
جھول کے کتے کیوں مشہور ہیں؟  جھول کتوں کی وجہ سے کیوں مشہور ھیں؟ جھول کتوں کی وجہ سے اس لئے بھی مشہور ہے کیوں کے جھول میں ہر قیسم رنگ و نسل  کے کتے پائے جاتے ہے اس لئے جھول کتوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔سندھ کے ٖشہر سانگھڑ  کا ایک گاؤں جو کتوں کے نام سے مشہور ھیں اس کی  وجہ یہ ھیں کے جھول ایک نیچے والا گاؤں ھیں نیچے والے گاؤں سے معراد جھول ایک میدانی علاقہ تھااورجھول ضعلع سانگھڑکے درمیان میں آتا ہیں  ضعلع سانگھڑکے سب چھوٹے بڑے شہرکے  لوگ شہر کے کتے اور گنڈ کچرا جھول میں پھنک   اور چھوڑ کر چلے جاتے تھے پہلے جھول کی آبادی بہت کم تھی آہستہ آہستہ جب جھول کی آبادی بھرنا شروع ہوئی تو لوگوں نے کتوں کی بھرتی ہوئی آبادی میں کوئی دلچسپی نہیں لی کتوں کی آبادی اس حد تک بھر گئی کے لوگ بتاتے ھیں کے سانگھڑکے اس چھوٹے سے گاؤں کو لوگ نے اس کہاوت سے مہشورکر دیاکہ جھول کتوں کی وجہ سے مہشور ہیں جھول میں ہر قیسم کے کتے پائے جاتے ھے جس میں شامل ہیں آوارہ قیسم کے کتے،تازئی نسل کے کتے،بھولئی نسل کے کتے،عام نسل کے کتے،گریٹ ڈین نسل کے کتے وغیرہ پائے جاتے ہیں۔پورے سندھ میں آج کل یہی حال ہیں جھول کے کتے اور سندھ کے۔  
 کتوں کی کہانی ایک لڑکے کی زبانی سانگھڑ کے لوگوں کا جینا حرام پیپر ختم ہوتے ہی افضل نے کچھ دن اپنے ماموں کے گھر جانے کا فیصلہ کیا افضل کے ماموں سندھ کے ضلع سانگھڑ کے قریبی گاوٗں میں رہتے تھے جس کا نام جھول تھا افضل اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر کے لیے نکلا.ماموں کے گھر پہنچنے کے بعد سب کزن سے ملنے کے بعد کھانا کھایا.کھانے کے میز پر افضل کی مامی نے بتایا.کے آج جھول کی ٹاون کمیٹی میں سے کچھ لوگ آے جو کتوں کو گولی مار رہے تھے. کیونکہ کل رات ا یک لڑکے کو کتے نے بہت شدید زخمی کردیا تھا.اس لڑکے کی ٹانگ پر بارہ ٹانکے لگے.اور اس لڑکے کو کتے کے کاٹنے کی ویکسین کے دو ٹیکے لگے.اور بارہ ٹیکے باقی ہیں.ماموں جان نے بتایا کے آج کل کتوں میں کوئی انفیکشن وائرس آیا ہے. جس کی وجہ سے پورے ملک میں جگہ جگہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور کاٹنے کے واقعیات سامنے آرہے ہیں.مگر حکومت کوئی نافذ اقدامات نہیں کر رہی.جھول میں کتوں کی آبادی اس حد تک ہو چکی ہے کہ شام کے سات بجے  کے بعدکوئی آدمی اکیلا گلیوں سے بغیر کسی ہتھیار کے نہیں گزر سکتا. کیونکہ یہ سب آوراہ کتے ہیں.ان کتوں میں کچھ اتنے خطر ناک کتے ہیں. کہ وہ دیکھتے ہی حملہ کر دیتے ہیں.پچھلے ہفتے ان کتوں کے حملے کی وجہ سے جھول اور سانگھڑ میں ہڑتال کی گئی تھی.ایک سات سال کی بچی کو کتے نے منہ پر کاٹا اور سانگھڑ کے سول ہسپتال میں تشویش ناک حالت میں لے کر گئے.جس کے نتیجے میں اس بچی کے منہ پر پانچ ٹانکے لگے تھے.پورے سندھ میں آج کل یہ ہی حال ہے.ماموں جان نے بتایاکے ان کے علاقے کے تقریبا لو گوں نے شکایت کی ہے لیکن کوئی بھی رد عمل نہیں آیا.اس کے علاوہ ایک وقت تو ایسا گزرا جس میں پورے ضلح سانگھڑ کے سول اسپتال میں ویکسین ہی نہیں ملی مریض کو جس کی وجہ سے اس مریض کی جان چلی گئی.ماموں کی بات سن کر مجھے بہت افسوس ہوا کے ہمارے سندھ کے ذیادہ لوگ تو غربت کے مارے ہوے لوگ ہیں اور اگر غریب عوام کو وقت پرویکسین نہ ملے تو یہ غریب لوگ تو مر جائیں گے ہمارے ملک کی حکومت کو ان آوارہ کتوں   کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کر نے کے لیے نافذ اقدام کرنے چاہئے تاکہ لوگوں میں کتوں کی دہشت کو ختم کیا جا سکے اگلے دن جب میں ماموں کے گھر سے باہر نکلا تو میرے سامنے ایک بچی جس کی عمر صرف نو سال تھی  دوکان سے چیز لے کر واپس آرہی تھی نا جانے کہاں سے ایک کتا آیا اور اس بچی پر حملہ کر کے اس بچی کو شدید زخمی کر دیا اتنے میں وہاں لوگ جمع ہو گئے اور اس بچی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا اور میں بھی لوگوں کے پیچھے ہسپتال پہنچا اور ہسپتال میں لوگوں کو دیکھ کر دنگ رہ گیا کیونکہ وہاں  ستر سے اسی لوگ کتے کے کاٹنے کی ویکسین لینے آئے تھے دل میں سوچا کے اس ملک کا کیا ہوگا جہاں آئے روز اتنے واقعے ہو رہے ہیں اور حکومت کا کوئی بندہ اس بات پر روشنی ڈالنے کو تیار ہی نہں جب کے دوسرے ملکوں میں  ایسے واقعے پر فورا ٰاقدامات لیے جاتے ہیں.اور  پھر جب اگلی صبح واپس اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے شہر کی طرف جا رہا تھا تو پورے راستے میرے دماغ میں کتوں سے زخمی ہونے والے لوگوں کے واقعات رونما ہو رہے تھے راستے میں تقریبا دس سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ساٹھ سے ستر آوارہ کتے بنا کسی خوف سے گھوم رہے تھے اور ان کتوں کی وجہ سے جھول سانگھڑ اور سندھ کی عوام خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھتے لوگ اپنی مدد آپ سے کتوں کو مارنا شروع کر دیا ہے 
                     شکریہ




Proper paragrphing is missing
 How this proverb was developed? 
Its not reporting based. 
Story seems fictitious 
These comments were made in email: Make it reporting based. Why this proverb of Dogs of Jhol 
However do not resend now

Awais Muneer- Feature
Roll No 89
  محمد اویس منیر 
بی ایس پارٹ تھری 
   رول نمبر: ۹۸   
    جھول کے کتے اور سندھ      
 کتوں کی کہانی ایک لڑکے کی زبانی سانگھڑ کے لوگوں کا جینا حرام پیپر ختم ہوتے ہی افضل نے کچھ دن اپنے ماموں کے گھر جانے کا فیصلہ کیا افضل کے ماموں سندھ کے ضلع سانگھڑ کے قریبی گاوٗں میں رہتے تھے جس کا نام جھول تھا افضل اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر کے لیے نکلا.ماموں کے گھر پہنچنے کے بعد سب کزن سے ملنے کے بعد کھانا کھایا.کھانے کے میز پر افضل کی مامی نے بتایا.کے آج جھول کی ٹاون کمیٹی میں سے کچھ لوگ آے جو کتوں کو گولی مار رہے تھے. کیونکہ کل رات ا یک لڑکے کو کتے نے بہت شدید زخمی کردیا تھا.اس لڑکے کی ٹانگ پر بارہ ٹانکے لگے.اور اس لڑکے کو کتے کے کاٹنے کی ایکسین کے دو ٹیکے لگے.اور بارہ ٹیکے باقی ہیں.ماموں جان نے بتایا کے آج کل کتوں میں کوئی انفیکشن وائرس آیا ہے. جس کی وجہ سے پورے ملک میں جگہ جگہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور کاٹنے کے واقعیات سامنے آرہے ہیں.مگر حکومت کوئی نافذ اقدامات نہیں کر رہی.جھول میں کتوں کی آبادی اس حد تک ہو چکی ہے کہ شام کے سات بجے  کے بعدکوئی آدمی اکیلا گلیوں سے بغیر کسی ہتھیار کے نہیں گزر سکتا. کیونکہ یہ سب آوراہ کتے ہیں.ان کتوں میں کچھ اتنے خطر ناک کتے ہیں. کہ وہ دیکھتے ہی حملہ کر دیتے ہیں.پچھلے ہفتے ان کتوں کے حملے کی وجہ سے جھول اور سانگھڑ میں ہڑتال کی گئی تھی.ایک سات سال کی بچی کو کتے نے منہ پر کاٹا اور سانگھڑ کے سول ہسپتال میں تشویش ناک حالت میں لے کر گئے.جس کے نتیجے میں اس بچی کے منہ پر پانچ ٹانکے لگے تھے.پورے سندھ میں آج کل یہ ہی حال ہے.ماموں جان نے بتایاکے ان کے علاقے کے تقریبا لو گوں نے شکایت کی ہے لیکن کوئی بھی رد عمل نہیں آیا.اس کے علاوہ ایک وقت تو ایسا گزرا جس میں پورے ضلح سانگھڑ کے سول اسپتال میں ویکسین ہی نہیں ملی مریض کو جس کی وجہ سے اس مریض کی جان چلی گئی.ماموں کی بات سن کر مجھے بہت افسوس ہوا کے ہمارے سندھ کے ذیادہ لوگ تو غربت کے مارے ہوے لوگ ہیں اور اگر غریب عوام کو وقت پرویکسین نہ ملے تو یہ غریب لوگ تو مر جائیں گے ہمارے ملک کی حکومت کو ان آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کر نے کے لیے نافذ اقدام کرنے چاہئے تاکہ لوگوں میں کتوں کی دہشت کو ختم کیا جا سکے اگلے دن جب میں ماموں کے گھر سے باہر نکلا تو میرے سامنے ایک بچی جس کی عمر صرف نو سال تھی  دوکان سے چیز لے کر واپس آرہی تھی نا جانے کہاں سے ایک کتا آیا اور اس بچی پر حملہ کر کے اس بچی کو شدید زخمی کر دیا اتنے میں وہاں لوگ جمع ہو گئے اور اس بچی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا اور میں بھی لوگوں کے پیچھے ہسپتال پہنچا اور ہسپتال میں لوگوں کو دیکھ کر دنگ رہ گیا کیونکہ وہاں  ستر سے اسی لوگ کتے کے کاٹنے کی ویکسین لینے آئے تھے دل میں سوچا کے اس ملک کا کیا ہوگا جہاں آئے روز اتنے واقعے ہو رہے ہیں اور حکومت کا کوئی بندہ اس بات پر روشنی ڈالنے کو تیار ہی نہں جب کے دوسرے ملکوں میں  ایسے واقعے پر فورا ٰاقدامات لیے جاتے ہیں.اور  پھر جب اگلی صبح واپس اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے شہر کی طرف جا رہا تھا تو پورے راستے میرے دماغ میں کتوں سے زخمی ہونے والے لوگوں کے واقعات رونما ہو رہے تھے راستے میں تقریبا دس سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ساٹھ سے ستر آوارہ کتے بنا کسی خوف سے گھوم رہے تھے اور ان کتوں کی وجہ سے جھول سانگھڑ اور سندھ کی عوام خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھتے لوگ اپنی مدد آپ سے کتوں کو مارنا شروع کر دیا ہے 


Thursday, 13 February 2020

Sonia Shaikh Feature Urdu 144


منظرکشی کرو یا پھر متعلقہ لوگوں سے بات چیت کر کے دلچسپ جملے لو۔ فیچر کو رپورٹنگ بیسڈ ہونا چاہئے 
شروع کے جملے اضافی ہیں

فیچر۔ سونیہ شیخ۔ بی ایس رول نمبر۔144
دینو کا پڑ اور اس کے ہنرمند لوگ
شہر حیدرآباد صوبائے سندھ کا ایک بڑا شہر ہے، جو پہلے نیرون کوٹ کہلاتا تھا۔کلہوڑوں کے دور میں اس کا نام حیدرآباد رکھا گیا اور اسے سندھ کا دارلحکومت بنایا گیا۔ 
حیدرآباد شروع سے ہی کاروبار کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس شہر کا سب سے بڑا کاروبار چوڑیوں کا ہے۔ یہاں کی بنی ہوئی چوڑیاں پورے ملک میں فراہم کی جاتی ہیں۔یہ شہر چوڑیوں کو بڑے پیمانے پر فراہم کرنے کا واحد مرکز ہے۔ جو پورے ملک میں بہت مشہور ہیں۔ حیدرآباد شہر اس کے علاوہ کئی کاروباروں میں مشغول شہر ہے۔ اس شہر کے الگ الگ علاقوں میں چھوٹے بڑے پیمانے پر مختلف کاروبار موجود ہیں۔ اس کا ایک مثال دینو کا پڑ ہی لے لیجئیے۔
دینو کا پڑ کھائی روڈ پر موجود ہے۔ یہاں کے لوگ بہت محنتی اور اپنے کاموں میں سرگرم رہنے والے ہیں۔ ان لوگوں میں یہ بات بہت اچھی ہے کہ یہ ایک گھر کی طرح آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔جن میں ایک دوسرے کا خیال، احساس اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ جب کوئی بڑا دن مذہبی یا تاریخ کے لحاظ سے آتا ہے، تو یہ سب مل کر اس دن کو مناتے ہیں۔ اپنی گلیوں کو پھولوں سے سجاتے ہیں اور رنگین روشنیوں سے روشن کرتے ہیں۔ یہ ان کے بھائی چارے اور اتحاد کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ یہاں کے رہنے والے خاندان کئی سالوں سے اس جگہ کے مقین ہیں۔
اس جگہ پر ایک سے زیادہ کاروبار ہیں۔ جن میں کاغذ، چمڑے، رنگ ریز اور لکڑی کے چھاپے کے کاروبار سالوں سے چلتے آرہیں ہیں۔ یہ تمام کاروبار بہت پرانے ہیں اور یوں کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ خاندانی کاروبار ہیں۔ کاروبار چاہے کوئی بھی ہو، اسے چلانے کے لیے بڑی محنت اور وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کو کامیاب بنانے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں اور اگر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس سے لڑ کر اپنا کام پورا کرتے ہیں۔اس سے یہاں کے لوگوں کی محنت اور لگن کا اندازہ ہوتا ہے۔
کاغذ سے کاپی یا رجسٹر بنانے کا کاروبار تقریباً تیس سالوں سے چلتا آرہا ہے۔ یہ لوگ لاہور سے یا کراچی سے کاغذ خریدتے ہیں پھر اردو بازار یا میرپورخاص سے آرڈر لے کر ان کو مختلف قسم کی کاپیاں اور رجسٹر دو سو، تین سو اور چار سو پیجز کے بناکر دیتے ہیں۔ چمڑے کے کاروبار میں چپل اور بیگز بڑی مہارت سے بنائے جاتے ہیں۔ چمڑے کے کاروبار میں یہاں تین سے چار دکان مصروف رہتے ہیں۔ ایک دکان پر مارکیٹ سے چمڑہ آتا ہے، جہاں چمڑے کو جوتے کی مختلف ناپ پر کاٹا جاتا ہے۔ یہ کام ایک پریس مشین سے کیا جاتا ہے۔ جس میں ایک ناپ کا سانچہ رکھ کر اس کے اوپر چمڑے کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے۔ پھر پریس مشین کے ذریعے وہ ٹکڑا اس ناپ پر کٹ جاتا ہے۔ ایسے ہی چمڑے کو مختلف ناپ میں کاٹ کر دوسری دکان تک پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں مختلف قسم کی ذزائینز سے اسے جوتے کی شکل دے کر آگے پہنچایا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً پچاس ساٹھ سالوں سے یہ کام ہو رہا ہے۔ پہلے لوکل مارکیٹ کے آرڈر پورے کیے جاتے تھے اور اب پاکستان کی مشہور برانڈز باٹا، سروس اور بورجان کے آرڈر پورے کیے جاتے ہیں۔لاہور (اے۔ٹی۔ایس پاکستان کی نامور برانڈ) سے پورے سال کا آرڈر لیتے ہیں، پھر ان کو وقت پر ان کا مال پہنچاتے ہیں۔ ساتھ ہی ایک دکان جوتے کے باکس بھی بناتی ہے۔ یعنی اس چھوٹے سے علاقے میں ایک چمڑے کا ٹکڑا خوبصورت اور نایاب شکل اختیار کر کے باکس میں مارکیٹ تک پہنچایا جاتا ہے۔
                         
رنگ ریز ایک ایسی مزدوری کا نام ہے جس میں کپڑوں کو ہینڈ ڈائے کیا جاتا ہے۔یہ کام لوگ اپنے گھر میں کرتے ہیں۔ آرڈر پر ریشم گلی سے کپڑے لاتے ہیں اور جیسے مالکان مطالبہ کرتے ہیں ویسے ہی رنگ ان کپڑوں پر چھڑا کر مالکان تک پہنچاتے ہیں۔ رنگ ریز کا کام بڑی احتیاط سے کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ کپڑوں کی رنگائی کے لیے پُر جوش آب میں رنگ ڈال کر کپڑوں کو ہوشیاری سے غوطے لگائے جاتے ہیں۔ رنگ ریز کے کام کو ستر سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔یہاں یہ کام پاکستان بننے سے پہلے لوگ انڈیا سے کرتے آرہے ہیں۔ ان تمام محنت کش کاموں میں سب سے پرانا کاروبار لکڑی کا چھاپہ ہے۔
لکڑی کا چھاپہ بہت قدیم اور اس جگہ کا سب سے مشہور کاروبار ہے۔یہ کاوربار دوسرے کاموں سے زیادہ محنت کش اور مشکل ہے۔ اس کام کو وقت پر پورا کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ کیوں کہ دوسرے کا تو ہاتھ سے بھی کیئے جاتے ہیں، مگر یہ کاروبار بجلی پر چلتا ہے۔ اگر بجلی کا بحران ہو جائے تو ان کو اپنا کاروبار چلانے میں بڑی مشکلیں درپش آتی ہیں۔ تقریباً ایک صدی سے یہ کاروبار ان کے آباواجداد چلاتے آرہے ہیں۔ پہلے یہ کام ہاتھوں سے کیا جاتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے اوزاروں سے لکڑی پر نقش نگاری کی جاتی تھی، پھر اس کی ہاتھ سے کٹائی کی جاتی تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ مشینوں کی جدت آئی، جس سے یہ کام تھورا آسان ہوا۔
                               
 افغانستان سے دیار، چلغوذہ(لکڑی کے اقسام) اور پنجاب سے شیشم ٹمبر مارکیٹ میں آتی ہیں، یہ لوگ  وہاں سے وہ لکڑی خریدتے ہیں۔لکڑی اگر خشک نہیں ہوتی تو اسے تین سے چار دن تک رکھتے ہیں پھر اس  پر کام شروع کرتے ہیں۔ یہ کام چھ سے سات لوگوں کا ہوتا ہے۔پہلے گسائی مشین میں لکڑی کی گسائی ہوتی ہے۔ پھر ہاتھ سے نقش نگاری ہوتی ہے یا پریس مشین میں ڈائی(مختلف ناپ اور ڈزائینز کے لوہے کے سانچے) رکھ کر مختلف قسم کے ڈزائینز بنائے جاتے ہیں۔ جس میں سندھی، بلوچی، اجرک، کینوس، بنارسی اور پَشکِ نایاب جیسی خوبصورت ڈزائینز قابل ذکر ہیں۔ اس کے بعد آرا مشن میں لکڑی کی کٹائی کی جاتی ہے۔ آخر میں ان لکڑی کے ٹکڑوں کو صاف کر کے ان پر رنگ کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان تمام مختلف ڈزائینز کے سیٹ کو الگ الگ تھلے میں محفوظ کر کے دکاندار تک پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ اندورن سندھ، بلوچستان اور ایران تک فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ کاروبار اس علاقے کا مشہور کاروبار ہے، جو دینو کے پڑ کو دوسروں سے الگ کرتا ہے۔

Tuba Rizvi Feature Urdu Revised 150

Revised 
Hopefully u carried out instructions/ noting  made on ur first version.  سیدہ طوبیٰ رضوی.
جماعت: BS-Part 3
رول نمبر: 2k18-150-MC
نام کی محبتیں 


سنا تھا محبت اندھی ہوتی ہے.وہ کسی پیسہ، شکل و صورت کی محتاج نہیں ہوتی. لیکن دور حاضر میں محبت کی بینائی لوٹ آئی ہے اور اتنی تیزی سے لوٹی ہے کہ اس نے اپنے اسٹینڈرڈ سیٹ کر رکھے ہیں. اب کسی غریب سے محبت کرنے کا تصور بھی نہیں ہے.  ہاں البتہ پیسہ اور گاڑی دیکھ کر محبت یوں اپنا راستہ بناتی ہے کہ دنیا تماشہ دیکھے.
    ’خفا ہو‘  سے  ’دفا ہو‘  تک کے سفر کو  آج کل کے نوجوان محبت کہتے ہیں.جی ہاں جناب  یہ آج کل کی محبتوں کے افسانے ہیں جو مہذ نام کی محبتیں ہیں،  فیس بُک سے شروع ہوکر واٹس ایپ پر اختتام پزیر ہوجاتی ہیں.  ’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘ سے لیکر ’امی ابو نہیں مان رہے‘ تک کا سفر طے کرتی ہیں. لو بھلا ذرا سی بات کیا ہوئی جناب محبت کر بیٹھے، دل تو ہتیلی پے لیئے پھرتے ہیں دل نا ہوا  وبالء جان ہوگیا.
محبت تو وہ جزبہ ہے جو تمام جزبوں سے بالاترہے لیکن آج کل کی محبتوں کا کوئی سانی نہی، دورِ حاضر کے نوجوانوں کے لیئے مطلب پرستی و جسم پرستی کے علاوہ محبت کچھ نہیں. چند گھنٹوں کی دل لگی اور کچھ ہفتوں کی وقت گزاری کو وہ محبت کا نام دیدیتے ہیں.  ’ارے آج کل جتنی جلدی محبوب بدلے جاتے ہیں اتنی جلدی تو کوئی کپڑے بھی نہیں بدلتا‘
ایسی بہت سی نام کی محبتیں ہیں جو منظرء عام پر آئی ہیں اوربہت سے ایسے واقعات بھی ہیں جن سے ہم نا واقف ہیں. ایسا ہی ایک واقعہ شہرِکراچی کے علاقہ انڈہ موڑ کی رہائشی زینت بی کی بیٹی کے ساتھ بھی  پیش آیا، زینت بی سے ان کی بیٹی کی خودکشی کی وجہ پوچھی گئی تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں.زینت بی اپنے علاقہ میں گھروں میں کام کرتی تھیں. ان کے دو بیٹے ہیں اور ایک ہی بیٹی تھی. زینت بی کا کہنا تھا کہ انکی بیٹی کو کسی لڑکے نے اپنی محبت کے جھوٹے وعدوں میں پھنسا کر اپنے ساتھ لے کر فرار ہو گیا. ۳ماہ گزرنے کے بعد جب بیٹی گھر لوٹی تو اسکی ذہنی حالت درست نا تھی. بار بار پوچھنے پر پتہ چلا کہ بغیر نکاح کے ۳ماہ تک زینت بی کی بیٹی کو حوس کا  نشانہ بنایا گیا. گھر آنے کے ایک ہفتہ بعد زینت بی کی بیٹی نے خودکشی جیسا قدم اٹھایا.
محبت کے عارضی نشے میں لڑکیاں اتنی اندھی ہوجاتی ہیں کہ انکو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ایک غلط قدم سے انکی اور انکے گھروالوں کی  زندگیوں پر کیا اصرات مرتب ہوں گے. لڑکوں کے سبز باغ دکھانے پر لڑکیاں اپنا گھر چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں ان کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ جو ان سے محبت کرتا ہوگا وہ کبھی بھی گھر سے بھگانے کی بات نہیں کرے گا. اس کو آپکی عزت کا خیال آپ سے زیادہ ہوگا.محبت کا بھات اترنے پر جب انکی آنکھیں کھلتی ہیں تو وہ بدنامی کے اس پہاڑ پر کھڑی ہوتی ہیں جہاں نا انکے گھروالے انکو قبول کرتے ہیں نا یہ معاشرہ. یہ تو وہی بات ہو گئی کہ اب پچھتائے کیا جب چڑیا چُگ گئی کھیت.
ضروری نہیں ہر محبت کا انجام غلط ہو دورِ حاضر میں کچھ ایسی بھی مثالیں ہیں. جنہوں نے اپنے بے نام محبت کو نکاح کا نام دیا  اللہ رضا  کے ساتھ ایک پاک رشتے میں بندھ گئے.اگر بات کی جائے اندھی محبت کی تو یہ لفظ سنتے ہی میرے ذہن میں کراچی کی رہائشی مونا اسلم نامی لڑکی کا خیال آتا ہے.ان سے گفتگو کے دوران معلوم ہوا کے مونا کی اسلم سے پسند کی شادی ہے، مونا اسلم نے عین اپنی مایوں والے دن اسلم کے ساتھ گھر چھوڑنے کا فیصلہ لیا. ان کا کہنا تھا کہ اس ترہاں گھر چھوڑنے اور شادی کرنے کا فیصلہ ان کے لیئے آسان نا تھا لیکن وہ اسلم کے علاوہ کسی اور سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں. انکا مذید کہنا تھا کہ گھر والوں نے انکے اور اسلم کے لیئے کوئی اور راستہ نا چھوڑا تھا اگر گھر والے ساتھ دیتے تو وہ یہ قدم کبھی نا اٹھاتیں.آج وہ اپنے شوہر اسلم اور  اپنے بچوں کے ساتھ ایک کوشحال ذندگی بسر کر رہی ہیں بقول انکے انکا راستہ غلط تھا لیکن فیصلہ بلکل درست تھا.
Conclusion be on one or two lines.
دورِ حاضر میں بوائے فرینڈ اور گرلفرینڈ کے کلچر کو ختم کرنے بے حیائی اور دھوکے فریب سے بچنے کے لیئے والدین کو بھی چاہیئے کہ بچوں کے  بالغ ہوتے ہی انکو نکاح جیسے بندھن میں باندھ دیں. بچوں کو اتنی آزادی دیں کہ وہ کھل کر اپنی پسند کا اظہار کر سکیں انکی پسند کو اہمیت دیں.اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں اور انکو محبت کا صحیح معنٰی سمجھائیں تاکہ محبت کے نام پر وہ اپنی اور کسی کی عزت و ذندگی کے ساتھنا کھیلیں۔ 



These are random thought. or a page from dairy. Can not be taken as feature
Feature is written on concrete things having 5 Ws+ 1H
Should be reporting based
Pls check notes, presentation, videos and sample available on group
Referred back 


سیدہ طوبیٰ رضوی.
جماعت: BS-Part 3
رول نمبر: 2k18-150-MC
نام کی محبتیں 

سنا تھا محبت اندھی ہوتی ہے.وہ کسی پیسہ، شکل و صورت کی محتاج نہیں ہوتی. لیکن دور حاضر میں محبت کی بینائی لوٹ آئی ہے اور اتنی تیزی سے لوٹی ہے کہ اس نے اپنے اسٹینڈرڈ سیٹ کر رکھے ہیں. اب کسی غریب سے محبت کرنے کا تصور بھی نہیں ہے.  ہاں البتہ پیسہ اور گاڑی دیکھ کر محبت یوں اپنا راستہ بناتی ہے کہ دنیا تماشہ دیکھے.
    ’خفا ہو‘  سے  ’دفا ہو‘  تک کے سفر کو  آج کل کے نوجوان محبت کہتے ہیں.جی ہاں جناب  یہ آج کل کی محبتوں کے افسانے ہیں جو مہذ نام کی محبتیں ہیں،  فیس بُک سے شروع ہوکر واٹس ایپ پر اختتام پزیر ہوجاتی ہیں.  ’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘ سے لیکر ’امی ابو نہیں مان رہے‘ تک کا سفر طے کرتی ہیں. لو بھلا ذرا سی بات کیا ہوئی جناب محبت کر بیٹھے، دل تو ہتیلی پے لیئے پھرتے ہیں دل نا ہوا  وبالء جان ہوگیا.
محبت تو وہ جزبہ ہے جو تمام جزبوں سے بالاترہے لیکن آج کل کی محبتوں کا کوئی سانی نہی، دورِ حاضر کے نوجوانوں کے لیئے مطلب پرستی و جسم پرستی کے علاوہ محبت کچھ نہیں. چند گھنٹوں کی دل لگی اور کچھ ہفتوں کی وقت گزاری کو وہ محبت کا نام دیدیتے ہیں.  ’ارے آج کل جتنی جلدی محبوب بدلے جاتے ہیں اتنی جلدی تو کوئی کپڑے بھی نہیں بدلتا‘
ایسی بہت سی نام کی محبتیں ہیں جو منظرء عام پر آئی ہیں اوربہت سے ایسے واقعات بھی ہیں جن سے ہم نا واقف ہیں. آج کل کے معاشرے کا یہ علمیہ ہے کہ لڑکا تو لڑکا لڑکیاں بھی لڑکوں سے دو ہاتھ آگے ہیں.ابھی گزشتہ  ماہ قبل ہی سوشل میڈیا کے ذریعہ ہونے والی محبت میں لڑکا لڑکا نہیں بلکہ بزرگ نکلا. محبت میں محبوبہ سے ملنے  سرگودھا  پہنچا تو محبوبہ نے اغوا کر کے گھر والوں سے تعوان کا مطالبہ کیا. صرف یہی نہیں آج کل تو آئے دن کی جانے والی محبتیں کی مثال  ایسی ہے کہ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس طوڑا بارا آنے.
محبت کے عارضی نشے میں لڑکیاں اتنی اندھی ہوجاتی ہیں کہ انکو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ایک غلط قدم سے انکی اور انکے گھروالوں کی  زندگیوں پر کیا اصرات مرتب ہوں گے. لڑکوں کے سبز باغ دکھانے پر لڑکیاں اپنا گھر چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں ان کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ جو ان سے محبت کرتا ہوگا وہ کبھی بھی گھر سے بھگانے کی بات نہیں کرے گا. اس کو آپکی عزت کا خیال آپ سے زیادہ ہوگا.محبت کا بھات اترنے پر جب انکی آنکھیں کھلتی ہیں تو وہ بدنامی کے اس پہاڑ پر کھڑی ہوتی ہیں جہاں نا انکے گھروالے انکو قبول کرتے ہیں نا یہ معاشرہ. یہ تو وہی بات ہو گئی کہ اب پچھتائے کیا جب چڑیا چُگ گئی کھیت.
ضروری نہیں ہر محبت کا انجام غلط ہو دورِ حاضر میں کچھ ایسی بھی مثالیں ہیں. جنہوں نے اپنے بے نام محبت کو نکاح کا نام دیا  اللہ اور والدین کی رضا مندی کے ساتھ ایک پاک رشتے میں بندھ گئے.اب آپ  ’اسد اور نمرہ‘ نامی جوڑے کی ہی مثال لے لیجیئے جو آج کل سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں. 18سال کی عمر میں شادی جیسے بندھن سے بندھ گئے اپنی محبت کو نکاح کا نام دیا اور نوانوں کو ہدایت دی کے بے نامی رشتوں سے بچیں والدین کو اعتماد میں لیکر نکاح جیسے رشتے کی پاسداری کریں. اسد کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹے کی جلدی شادی کروا کر میں نے اپنے بیٹے کو گناہ سے بچایا.
دورِ حاضر میں بوائے فرینڈ اور گرلفرینڈ کے کلچر کو ختم کرنے بے حیائی اور دھوکے فریب سے بچنے کے لیئے والدین کو بھی چاہیئے کہ بچوں کے  بالغ ہوتے ہی انکو نکاح جیسے بندھن میں باندھ دیں. بچوں کو اتنی آزادی دیں کہ وہ کھل کر اپنی پسند کا اظہار کر سکیں.اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں اور انکو محبت کا صحیح معنٰی سمجھائیں تاکہ محبت کے نام پر وہ اپنی اور کسی کی عزت و ذندگی کے ساتھنا کھیلیں۔ 

Urooj Yousuf Feature Urdu 159

Revised
Be careful, do not send again
 Feature by Urooj Yousuf
MC/159/2k18
BS:PART3

یہاں  اردو میں بھی اپنا نام لکھیں 
 فیچراور پورفائل میں مصنف کو ہی تصیور فراہم کرنی ہوتی ہے۔ 
                  سندھ میوزیم اور میں  
                          عروج یوسف 
  مرشد فرماتے ہیں!وہ بچپن ہی نہیں جس کی کوئی کہانی نہیں۔
یوں تو بچپن کی بہت سی باتوں اور قصے کہانیوں کا ذخیرہ عام طور پر سبھی کے پاس ہوتا ہے، مگر کچھ لوگ بچپن کی نادانیوں اور غلطیوں سے کوئی  سبق سیکھ جاتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں، تو وہیں کچھ لوگ انہیں صرف مزاق میں اڑا دیتے ہیں۔
 تاریخی مقامات کا ذکر سنتے ہی ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ قدیم تاریخ اور آثار قدیمہ سے دریافت ہونے والی اشیاء کا جائزہ لے، اور اگران سب کے دوران آپ سے بے خیالی میں کسی تاریخی ورثے کا کچھ نقصان ہو جائے تو آپ کا فوری رویہ کیا ہو گا۔
 کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔میں نے لوگوں سے میوزیم کے متعلق کافی سنا تھا۔ایک دن اس کا ذکر میں نے اپنی سہلیوں سے کیا،میوزیم کا ذکر سنتے ہی سہلیوں کا ایک بڑا جھنڈ میرے ساتھ میوزیم چلنے کو تیار ہو گیا۔ہم سب سہلیاں شرارتیں کرنے میں نہایت ماہر تھیں۔
ہم میوزیم کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوئے،اندر داخل ہوتے ہی سندھی گھر کا خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملا،جہاں مٹی سے بنے لوگوں کے مجسمے اس قدر خوبصورتی سے رکھے گئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ہر ایک مجسمہ اپنے کام میں مشغول نظر آتا ہے،یہ دیکھ کر ہمیں کافی حیرانگی ہوئی،ہم نے ان کے ساتھ سیلفیاں نکالیں اور کافی مزہ بھی کیا۔
اس کے بعدآگے بڑھے تو سندھی گھر کے برابر میں چند قدم کے فاصلے پر ہمیں ایک لٹریٹ گیلری نظر آئی ہم سب نے وہاں کا رخ کیا۔اس لٹریٹ گیلری میں نظام شمسی کو چارٹس اور ماڈلز کی مدد سے بتایا گیا ہے اس کے ساتھ ہی زندگی کے ارتقاء اورقدیم ابتدائی جانداروں کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے،جوں ہی ہماری نظر گیلری میں موجود جنگل اور جنگلی پرندوں کے ماڈلز پر پڑی انہیں دیکھ کر میں اور میری سہلیاں جنگلی پرندوں کی مانند آوازیں نکالنے لگیں، جس سے گیلری میں شور برپا ہوگیا،ہم کافی شرارتیں کرنے لگے،جس پر انتظامیہ نے تنگ آ کر ہمیں وارننگ دی مگر ہم نے انتظامیہ کی وارننگ کو مزاق میں اڑا دیا،ہم اپنی مستیوں میں مشغول رہے،اتنے میں ایک سہیلی کنویں سے پانی بھرنے کے نظام کی طرف گئی اورفلموں کی ہیروئین کی مانند اداکاری کرنے لگی،اسے دیکھ کر ہم خوب ہنسے۔
اس کے بعد جیسے ہی ہم لٹریٹ گیلری سے باہر نکلے تو سامنے ہی ایک اور لائبریری نظر آئی قریب گئے تو پتہ چلا کہ یہ آرکیالوجیکل گیلری  ہے، اس میں سندھ کا قدیم تاریخی و ثقافتی ورثہ اور آثارقدیمہ سے حاصل ہونے والی اشیاء کو رکھا گیا ہے،اس گیلری کا ایک اہم مقصد نئی آنے والی نسل کو تاریخی ورثے سے با خبر رکھنا ہے۔یہاں ضلع جامشورو،موہن جو ڈرو اور موہن جو ڈرو کے دور سے پہلے کی تاریخی اشیاء دیکھنے کو ملیں،ایسا لگ رہا تھا کہ ہم تاریخ کی دنیا میں کھو چکے ہیں۔آگے بڑھے تودیکھا خوبصورت اجرک مختلف رنگ اور ڈیزائن میں مجسموں نے زیب طن کی ہوئی تھیں،سہلیوں کے ساتھ طنز و مزہ کرتے ہوئے جب میں نے مجسمے سے اجرک کو اتارنے کی کوشش کی تو اچانک میری ٹکر پاس کھڑے ایک مجسمے سے ہوگئی جس کے باعث فوراََ مجسمہ گر پڑا۔
سب سہلیاں ایک دم خاموش ہوگئیں،کمرہء لائبریری میں سنناٹا چھا گیا،میری اس احمقانہ حرکت پر مجھے کافی شرمندگی محسوس ہوئی،مجسمے کے گرنے سے اس میں دراریں آگئیں،انتظامیہ نے میری اس حرکت پر فوری جرمانہ ادا کروایا،مجھے اتنی شرمندگی ہوئی کہ میں وہاں سے اسی وقت گھر لوٹ آئی،میری سہلیوں نے میرا کافی مزاق بھی اڑایا،کچھ عرصے تک میوزیم کا وہ مجسمہ ویسا ہی رہا،آخر کچھ عرصے بعد مجسمے کو ٹھیک
 کروادیا گیا،اس واقعے کے بعد جب بھی کبھی میرا میوزیم جاناہوتا ہے تو مجھے اپنی نادانی میں کی ہوئی غلطی یاد آجاتی ہے،اور میں کافی محتاط ہو جاتی ہوں۔ 



=================================
Intro is weak, otherwise its ok
File name is wrong, sending file with wrong name is like writing wrong name or roll number in the exam paper 
Ensure ur name class etc be proper at three places: Subject line, file name and also in the text file 

 Feature by Urooj yousuf 
MC/159/2k18
BS:PART3
                  سندھ میوزیم اور میں  
حیدرآباد کے تاریخی مقامات میں شمارسندھ میوزیم، سندھ کی قدیم تاریخ،تہذیب اور ثقافت کا ایک اہم مرکز ہے۔
                 ''سندھ میوزیم وہ واحد میوزیم ہے جہاں قدیم سندھی ثقافت کے کئی رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں '' 
سندھ میوزیم سندھی ثقافت،رہن سہن،لباس،ہنراور تاریخ کو آج بھی زندہ کئے ہوئے ہے۔مقامی لوگوں کے علاوہ مختلف ممالک سے سیاہوں کی بڑی تعدادسندھ میوزیم کا دورہ کر چکی ہے، سیاہ میوزیم میں تاریخی ثقافت اور ہنر کو دیکھ کر کافی لطف اندوز ہوتے ہیں۔اور میوزیم میں موجود آرٹ ورک کو خوب سہراتے ہیں۔
میوزیم کا ذکر سنتے ہی ہر شخص کا دل کرتا ہے کہ وہ میوزیم جا کرقدیم سندھی ثقافت اورآثارقدیمہ سے دریافت ہونے والی تاریخی اشیاء کا نظارہ کرے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔میں نے لوگوں سے میوزیم کے متعلق کافی سنا تھا۔ایک دن اس کا ذکر میں نے اپنی سہلیوں سے کیا،میوزیم کا ذکر سنتے ہی سہلیوں کا ایک بڑا جھنڈ میرے ساتھ میوزیم چلنے کو تیار ہو گیا۔ہم سب سہلیاں شرارتیں کرنے میں نہایت ماہر تھیں۔
ہم میوزیم کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوئے،اندر داخل ہوتے ہی سندھی گھر کا خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملا،جہاں مٹی سے بنے لوگوں کے مجسمے اس قدر خوبصورتی سے رکھے گئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ہر ایک مجسمہ اپنے کام میں مشغول نظر آتا ہے،یہ دیکھ کر ہمیں کافی حیرانگی ہوئی،ہم نے ان کے ساتھ سیلفیاں نکالیں اور کافی مزہ بھی کیا۔اس کے بعدآگے بڑھے تو سندھی گھر کے برابر میں چند قدم کے فاصلے پر ہمیں ایک لٹریٹ گیلری نظر آئی ہم سب نے وہاں کا رخ کیا۔اس لٹریٹ گیلری میں نظام شمسی کو چارٹس اور ماڈلز کی مدد سے بتایا گیا ہے اس کے ساتھ ہی زندگی کے ارتقاء اورقدیم ابتدائی جانداروں کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے،جوں ہی ہماری نظر گیلری میں موجود جنگل اور جنگلی پرندوں کے ماڈلز پر پڑی انہیں دیکھ کر میں اور میری سہلیاں جنگلی پرندوں کی مانند آوازیں نکالنے 
لگیں،جس سے گیلری میں شور برپا ہوگیا،ہم کافی شرارتیں کرنے لگے،جس پر انتظامیہ نے تنگ آ کر ہمیں وارننگ دی مگر ہم نے انتظامیہ کی وارننگ کو مزاق میں اڑا دیا،ہم اپنی مستیوں میں مشغول رہے،اتنے میں ایک سہیلی کنویں سے پانی بھرنے کے نظام کی طرف گئی اورفلموں کی ہیروئین کی مانند اداکاری کرنے لگی،اسے دیکھ کر ہم خوب ہنسے۔
اس کے بعد جیسے ہی ہم لٹریٹ گیلری سے باہر نکلے تو سامنے ہی ایک اور لائبریری نظر آئی قریب گئے تو پتہ چلا کہ یہ آرکیالوجیکل گیلری 
ہے،اس میں سندھ کا قدیم تاریخی و ثقافتی ورثہ اور آثارقدیمہ سے حاصل ہونے والی اشیاء کو رکھا گیا ہے،اس گیلری کا ایک اہم مقصد نئی آنے والی نسل کو تاریخی ورثے سے با خبر رکھنا ہے۔یہاں ضلع جامشورو،موہن جو ڈرو اور موہن جو ڈرو کے دور سے پہلے کی تاریخی اشیاء دیکھنے کو ملیں،ایسا لگ رہا تھا کہ ہم تاریخ کی دنیا میں کھو چکے ہیں۔آگے بڑھے تودیکھا خوبصورت اجرک مختلف رنگ اور ڈیزائن میں مجسموں نے زیب طن کی ہوئی تھیں،سہلیوں کے ساتھ طنز و مزہ کرتے ہوئے جب میں نے مجسمے سے اجرک کو اتارنے کی کوشش کی تو اچانک میری ٹکر پاس کھڑے ایک مجسمے سے ہوگئی جس کے باعث فوراََ مجسمہ گر پڑا۔
سب سہلیاں ایک دم خاموش ہوگئیں،کمرہء لائبریری میں سنناٹا چھا گیا،میری اس احمقانہ حرکت پر مجھے کافی شرمندگی محسوس ہوئی،مجسمے کے گرنے سے اس میں دراریں آگئیں،انتظامیہ نے میری اس حرکت پر فوری جرمانہ ادا کروایا،مجھے اتنی شرمندگی ہوئی کہ میں وہاں سے اسی وقت گھر لوٹ آئی،میری سہلیوں نے میرا کافی مزاق بھی اڑایا،کچھ عرصے تک میوزیم کا وہ مجسمہ ویسا ہی رہا،آخر کچھ عرصے بعد مجسمے کو ٹھیک
 کروادیا گیا،اس واقعے کے بعد جب بھی کبھی میرا میوزیم جاناہوتا ہے تو مجھے اپنی نادانی میں کی ہوئی غلطی یاد آجاتی ہے،اور میں کافی محتاط ہو جاتی ہوں۔ 

Saba Akram Feature Urdu Referred back 129

Revised
Check noting is carried out?
 صبا اکرم  
رول نمبر؛    129 
میڈیم؛اردو
                                      ہاسٹل کی زندگی

یونیورسٹی آنے سے پہلے مجھے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہاسٹل کی زندگی کیسی ہوتی ہے کیوں کہ میں نے کبھی بھی ہاسٹل میں زندگی نہیں گزاری تھی بس یہاں آنے سے پہلے امی نے یہ کہا تھا کہ جب کام کی ذمہ داریاں بڑھیں گی جب امی کی یاد آئے گی اور ہاں امی کی یاد واقعی آئی۔ ہا سٹل میری زندگی کے آگے کے پنوں کو بھرنے جارہا تھا پہلے دن تھک ہار کے آرام سے موج مستی کر کے میں سوگئی اور پھر صبح چار بجے میری آنکھ کھلی کہ اب میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ میرے پاس میری ماں نہیں جو بڑے پیار سے مجھے جگاتی بیٹا اُٹھ جا تھک ہار کے الس میں میں کہتی امی تھوڑی دیر اور سونے دیں۔ تبھی کہیں سے ایک کڑک آواز آتی میرے ابو کی کیوں بھئی صاحبزادی ابھی تک سورہی ہو۔ کمی کھَل رہی تھی امی ابو کے پیار کی، کمی کھَل رہی تھی اُن آراموں کی لیکن میں اکیلی نہیں تھی۔ہاسٹل میں ایسے کئی اور لوگ بھی تھے جو میری طرح امی ابو کو یاد کرتے تھے لیکن کئیوں نے ہار مان لی تھی لیکن آج میں سمجھتی ہوں کہ میرے امی ابو کا سب سے اچھا فیصلہ تھا۔ میرا ہاسٹل یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں تھا۔صرف دس منٹ کی دوری پہ ہی تھاجہاں میں رکشہ اور یونیورسٹی کی بس سے آتی جا تی تھی۔میرا ہاسٹل 3 منزلہ عمارت پر مشتمل تھا جس میں تقریبا 12 ِسے زائد کمرے تھے۔ہاسٹل میں 50سے زائد لڑکیاں تھیں۔میرے ہاسٹل مسکان گرلز ہاسٹل کے نام سے مشہور تھا۔ جو کہ جامشورو سوسا ئٹی میں واقع تھا۔ ہاسٹل کا نام سوچ کے ہی دل عجیب ہوجاتا تھا میرا۔ میری ہاسٹل میں کوئی پکی سہیلی بھی نہیں بنی بد قسمتی سے تو وقت گزارنا یونیورسٹی سے آنے کے بعد بہت مشکل ہوجاتا تھا۔ لیکن یہی ہمارا اب دوسرا گھر تھااور کب یہ میرا گھر بن گیا مجھے پتا ہی نہیں چلا اور پھر وقت بھی اچھا گزرنے لگا۔ ہاسٹل کے باہر عوام کو لگتا ہے کہ یہ ہر وقت پڑھائی میں مشغول رہتے ہیں لیکن آج کی نالائیک نسل سے پڑھائی بھی ہر وقت نہیں ہوتی۔چھٹی کا سارا دن بستر پر ہی گزرجاتا۔ کبھی جوش آ جا تا تو چائے پینے نکل جاتی شام میں۔ ہاسٹل کی بے بس عوام جو اس معاشرے میں رہتی تو ہے مگر جیتی نہیں ہے کیوں کہ زندگی کی سختیاں سہ سہ کہ ہاسٹل والے ہر حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں۔ ہمارا ہاسٹل گورنمنٹ ہاسٹل سے کئی گُنابہتر تھا کیوں کہ ہمارے ہاسٹل میں ہر کمرے کے ساتھ واش روم تھا اور اس کے بر عکس گورنمنٹ ہاسٹل میں دن کی شروعات واش روم کے آگے پہلے آؤ  پہلے پاؤ پر کی بنیاد پر تھی۔کہنے کو تو گورنمنٹ ہاسٹل میں 100سے زائد واش روم ہوتے ہیں لیکن ان میں سے 75واش روم صحیح سلامت شکل والے شاور سے محروم ہوتے تھے اور بچے پانچ پہ 500 لوگوں پہ صفائی کی ذمہ داری ہوتی تھی باقی یہ شاور خراب نہیں ہوتے میری جان ہوتے ہی نہیں ہیں۔اکثر ایک پتلی پائپ نظر آتی ہے جس کو چلانے سے فوارہ نہیں بلکہ ایک لیزر نما دھار نکلتی ہے جو کہ آپکو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاسٹل میں آئے دن کسی نہ کسی کے کمرے سے شور کی آوازیں آتی ہیں اور جا کے دیکھو ں تو ایک کے بال دوسری کے ہاتھ میں اور دوسری کے ہاتھ تیسری کے ہاتھ میں اور مزے ہمارے ہوجاتے۔ گورنمنٹ ہاسٹل میں روٹی کے نام پر اکثر جانور کی چمڑی دی جاتی ہے۔روٹی اس کے کھانے کے کام آئے یا نہ آئے لیکن دشمنوں پہ حملہ کرنے کے ضرور کام آتی ہے۔ ہم غربت کے ماروں کا یہ حال  ہے کہ اگر قراندازی میں جہاز بھی نکل آئے تو بھی ہم کو اتنی خوشی نہیں ہوگی جتنی تب ہوتی ہے جس دن بریانی یہ قورمہ پکتا ہو۔ایک سے زیادہ ہم نے پلیٹ میں بوٹی دیکھی نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں اگر کسی کمرے میں گھر کا کھانا آجائے تو جنگل میں آگ کی طرح بات پھیل جاتی ہے اور سب پھر اس کھانے پر ٹوٹ پڑتی ہیں پھر بے شک پیچھے زلزلے آرہے ہوں یہ دنیا تباہ ہورہی ہو لیکن کھانا نہیں چھوڑنا۔ فروٹ تو برسوں سے ہمارے نصیبوں سے چلا گیا ہو کمزوریوں کے مارے شکل چھواروں جیسی ہوگئی ہے۔لنڈے کی ریڑی ہو یا ہاسٹل کی الماری میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔امتحان کی رات بھی خوب کچیری لگائی جاتی ہے۔گورنمنٹ  ہاسٹل میں گیلیلو کے زمانے کا پرانہ انٹرنیٹ مو ڈیم لگا  ہوا ہوتا ہے جو کہ کچھوے کے نانا ابو سے بھی زیادہ آہستہ چلتا ہے۔ہاسٹل میں رہنے والی کئی لڑکیوں سے میں نے گفتگو کی جن میں سے نادیہ کاکہنا تھا کہ وہ دو سال سے مسکان گرلز ہاسٹل میں مقیم ہیں اور انہیں یہ ہاسٹل اپنے گھر کی طرح لگتاہے۔ انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں ہی رہتی ہیں یہاں ہر قسم کی آزادی ہے ۔انکا مزید یہ کہنا تھا کہ یہاں ہمیں گورنمنٹ  ہاسٹل سے زیادہ سہولیات میسر کی جاتی ہیں۔ زندگی کہاں سے کہاں لے جاتی ہے کچھ پتا ہی نہیں چلتا لیکن اس با ت کا یقین ضرور ہے ہم دنیا کے جس بھی کونے میں رہیں گے جس بھی حال میں رہے گے لیکن ہی ہاسٹل کی شامیں، یہ لاپرواہ راتیں اور بے فضول حرکتیں ہمیں ہمیشہ جوڑیں رہیں گی۔  ہاسٹل میں گزارہ ہوا وقت  وہ کبھی بھولا نہیں جاسکتا۔ شام ہوتے ہی ہاسٹل سے باہر نکل جانا، گھومنا پھرنا،دوستوں کے ساتھ شغل کرنا، موج مستی کرنا۔ شاید خیالوں، خواہشوں،اور امیدوں میں ہی صحیح لیکن ہاسٹل کی شاموں میں ہم ہمیشہ آزاد، مکمل اور زندہ رہیں گے۔ 



its 520 words requirement is 600 plus 
Observe para 
Can u make it reporting based? what other people say
How it is different from govt hostels? 
 صبا اکرم  
رول نمبر؛    129 
Saba Akram, BS, 129, Urdu, Feature, 

                                      ہاسٹل کی زندگی

یونیورسٹی آنے سے پہلے مجھے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہاسٹل کی زندگی کیسی ہوتی ہے کیوں کہ میں نے کبھی بھی ہاسٹل میں زندگی نہیں گزاری تھی بس یہاں آنے سے پہلے امی نے یہ کہا تھا کہ جب کام کی ذمہ داریاں بڑھیں گی جب امی کی یاد آئے گی اور ہاں امی کی یاد واقعی آئی۔میرا ہاسٹل یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں تھا۔صرف دس منٹ کی دوری پہ ہی تھاجہاں میں رکشہ اور یونیورسٹی کی بس سے آتی جا تی تھی۔میرا ہاسٹل 6 منزلہ عمارت پر مشتمل تھا جس میں تقریبا 24   ِسے زائد کمرے تھے۔ہاسٹل میں 150سے زائد لڑکیاں تھیں۔میرے ہاسٹل مسکان گرلز ہاسٹل کے نام سے مشہور تھا۔ جو کہ جامشورو سوسا ئٹی میں واقع تھا۔ ہاسٹل کا نام سوچ کے ہی دل عجیب ہوجاتا تھا میرا۔ میری ہاسٹل میں ایک سہیلی بھی نہیں بنی بد قسمتی سے۔ہاسٹل کی بے بس عوام جو اس معاشرے میں رہتی تو ہے مگر جیتی نہیں ہے کیوں کہ زندگی کی سختیاں سہ سہ کہ ہاسٹل والے ہر حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں۔دن کی شروعات واش روم کے آگے پہلے آؤ پہلے پاؤ پر کی بنیاد پر تھی۔کہنے کو تو ہاسٹل میں 30سے زائد واش روم تھے لیکن ان میں سے 25 واش روم صحیح سلامت شکل والے شاور سے محروم ہوتے تھے اور بچے پانچ پہ 500 لوگوں پہ صفائی کی ذمہ داری ہوتی تھی باقی یہ شاور خراب نہیں ہوتے میری جان ہوتے ہی نہیں ہیں۔اکثر ایک پتلی پائپ نظر آتی ہے جس کو چلانے سے فوارہ نہیں بلکہ ایک لیزر نما دھار نکلتی ہے جو کہ آپکو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔آئے دن کسی نہ کسی کے کمرے سے شور کی آوازیں آتی ہیں اور جا کے دیکھو ں تو ایک کے بال دوسری کے ہاتھ میں اور دوسری کے ہاتھ تیسری کے ہاتھ میں۔ روٹی کے نام پر اکثر جانور کی چمڑی دی جاتی ہے۔روٹی اس کے کھانے کے کام آئے یا نہ آئے لیکن دشمنوں پہ حملہ کرنے کے ضرور کام آتی ہے۔ ہم غربت کے ماروں کا یہ حال  ہے کہ اگر قراندازی میں جہاز بھی نکل آئے تو بھی ہم کو اتنی خوشی نہیں ہوگی جتنی تب ہوتی ہے جس دن بریانی یہ قورمہ پکتا ہو۔ایک سے زیادہ ہم نے پلیٹ میں بوٹی دیکھی نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں اگر کسی کمرے میں گھر کا کھانا آجائے تو جنگل میں آگ کی طرح بات پھیل جاتی ہے اور سب پھر اس کھانے پر ٹوٹ پڑتی ہیں پھر بے شک پیچھے زلزلے آرہے ہوں یہ دنیا تباہ ہورہی ہو لیکن کھانا نہیں چھوڑنا۔ فروٹ تو برسوں سے ہمارے نصیبوں سے چلا گیا ہو کمزوریوں کت مارے شکل چھواروں جیسی ہوگئی ہے۔لنڈے کی ریڑی ہو یا ہاسٹل کی الماری میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔امتحان کی رات بھی خوب کچیری لگائی جاتی ہے۔ہاسٹل میں گیلیلو کے زمانے کا پرانہ انٹرنیٹ مو ڈیم لگا ہوا ہے جو کہ کچھوے کے نانا ابو سے بھی زیادہ آہستہ چلتا ہے۔زندگی کہاں سے کہاں لے جاتی ہے کچھ پتا ہی نہیں چلتا لیکن جو وقت ہاسٹل میں گزازہ ہو وہ کبھی بھولا نہیں جاسکتا۔میں نے اپنا پور اعرصہ اکیلے گزارہ جو نہایت منفرد رہا۔

Shahbaz Khan Feature Urdu Revised 98


Revised 
شھباز خان) بی ایس پارٹ تھری)
2k18/MC/98
 نیا پل لنڈا بازارحیدرآباد
 روایزڈ۔
پرانے اور استعمال شدہ کپڑوں کا بازار جسے لنڈا بازار کہا جاتا ہے لنڈا ایک برطانوی خاتون کا نام تھا جو کہ بہت رحم دل اور غریبوں سے ہمدردی رکھنے والی عورت تھی اُسنے غریبوں کے لئے کچھ کرنے کا سوچا مگر اُسکے اپنے وسائل ہی کم تھے تو اُسنے اپنے کچھ دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی  اُسکے دوستوں نے اسے کچھ پرانے جوتے اور کپڑے دیدیئے جو اُسنے غریبوں کے لئے ایک اسٹال پر سجائے اور غریب لوگ وہاں سے وہ کپڑے مفت لینے لگے یہ دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑے لنڈا کو دینا شروع کردیئے اور اسکا یہ اسٹال کافی مشہور ہوگیا جو باد میں ایک مارکٹ بن گیا اور اسے لنڈا مارکٹ کے نام سے جانا جانے لگا اور انگریزوں کی برصغیر کی آمد کے ساتھ انگریزوں کی پرانی اشیاء جو بیکار ہوجاتی تھی سستے دام میں پاکستان اور ہندوستان میں فروخت ہوجاتی تھی۔
حیدرآباد جسے سندھ کا دوسرا بڑا شہر کہا جاتا ہے اسی شہر میں مکی شاہ روڈ پر واقع پل جس کے نیچے لنڈا بازار لگایا جاتا ہے جسے لوگ نیا پل لنڈا بازار کے نام سے جانتے ہیں جو کے حیدرآباد کا سب سے مشہور اور پرانا لنڈا بازار ہے۔
حیدرآباد میں تین جگہ لنڈا بازار لگتے ہیں جس میں ایک بازار فاتحہ چوک پکولا فیکٹری جانے والے روڈ پر لگتا ہے اور دوسرا حیدرآباد کپڑا مارکیٹ روڈ سے فقیر کے پڑ جانے والی سڑک پر جبکہ تیسرا اور سب سے بڑا لنڈا بازار نئے پل پر لگایا جاتا ہے۔
یہاں موجود شیر خان جو کے یہاں پندرہ سال سے لنڈا کے جوتے فروخت کر رہا ہے اس نے بتایا کہ وہ یہ کام بچپن سے ہی کرہا ہے اس سے پہلے اسکے والد یے کام کرتے تھے وہ بچپن سے ہی انکے ساتھ ہوتا تھا اور آج اُسنے اپنی ذاتی دکان خرید لی ہے اسی طرح موجود یہاں ایک اور دکاندار جس کا نام  رحیم خان ہے یے یہاں 11 سال سے ٹھیلہ لگا رہا ہے اسے نہ بتایا جو کپڑے اپ کو بڑے بڑے  برانڈز کی دکانوں پر ہزاروں روپے میں ملتے ہیں وہ یہاں میں سو روپے سے لیکر پانچ سوروپے تک فروخت کرتا ہوں اور دکان داروں نے بھی کچھ اسی طرح کی باتیں بتائیں یہاں کے سب سے پرانے دکاندار سلیم خان کا کہنا ہے نیا پل لنڈا بازار میں آپ کو دکانیں بھی ملے گی اور اسٹال بھی اس کا سبب یہ ہے کہ جب بڑی گھاٹے خولی جاتی ہیں تو اس میں سے اچھا مال چھانٹ کر دکانوں پر رکھ لیا جاتا ہے اور بچا کچھا اسٹال پر سجا دیا جاتا ہے۔جہاں ہر چیز کی الگ الگ قیمت رکھی جاتی ہے۔
یہاں ایک جوتا خریدنے آئے شخص فرحان نے بتایا کہ وہ یہاں ایک شوز خریدنے آیا تھا جس کی قیمت بڑی دکانوں کمسکم دو ہزار ہے اور اُسنے یہاں سے وہ 500 روپے میں خریدا ہے ایک خریدار محممود عالم قریشی جس نے یہاں گھر کے سجاوٹ کے سامان کا پورا ٹھیلہ ہی خرید لیا انہوں نے بتایا کہ یہ سامان انہیں کسی دوسری دکان سے بہت مہگا ملتا جبکہ میں نے یہاں سے یے پورا اسٹال پانچ ہزار میں خرید لیا ہے خریداروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں وہ چیزیں مل جاتی ہیں جو انٹک ہوتی ہیں اور وہ پورے پاکستان میں کہیں نہیں مل سکتی۔
خریداروں کا کہنا ہے بعض اوقات خوش قسمتی سے انہیں لنڈا کے کپڑوں سے کچھ قیمتی سکے ملے جیسے ایک صارف نومان نے کہاایک بار اس کے پاس ایک امریکی ڈالر ایک بیگ سے مل گیا تھا۔ ”ایک اور صارف نے بتایا کہ اسے کیمرا کا میموری کارڈ مل گیا ہے اور اس کا ذخیرہ 32 جی بی کے قریب ہے لہذا یہ حیرت انگیز ہے۔نیا پل لنڈا بازار اپنے خریداروں کو ہر چیز کی پیش کش کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ استعمال شدہ مواد ہے لیکن یہ غریبوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لاتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور انکے چہرے پر خوشی لاتا ہے لہذا اس کی اہمیت انمول ہے۔لوگوں کا کہنا ہے انہیں یہاں اچھی اور پائیدار چیزیں مل جاتی ہے بعض دفعہ مہگی بھی ملتی ہیں مگر وہ پائیدار ہوتی ہیں تو ہم خرید لیتے ہیں 

پاکستان کا سب سے بڑا لنڈا بازار لاہور ریلوے اسٹیشن پر دہلی دروازے کے قریب ہے جہاں سے بڑی تعداد میں مال کراچی لائٹ ہاؤس لنڈا مارکیٹ میں بھی آتا ہے جو کے پاکستان کی دوسری سب سے بڑی لنڈا مارکیٹ ہے۔


Again referred back 
یہ پول نہیں پل ہے۔ پکہ قلعہ نہیں، یہ مکی شاہ روڈ اور کچہ قلعہ کی طرف  سڑک جاتی ہے۔ 
لنڈا سے کیا مطلب ہے؟ وہ لکھو۔ فیچر کا مقصد تفریح مہیا کرنا ہے، اور اس میں معلومات دلچسپ انداز میں دی جاتی ہے۔ 
 یہ رپورٹنگ بیسڈ نہیں۔ اس میں متعلقہ لوگوں کے جملے (کوٹ) ڈالو، منظر کشی کرو۔ اس سے پہلے لنڈا بازار کہاں تھا؟ اور شہر میں کہاں کہاں ہے۔  دنیا بھر میں لنڈا بازار ہوتے ہیں نیٹ پر تلاش کر کے ان کا موازنہ کرو۔
 لنڈا بازار میں پیار کہاں سے نکال لائے ہو۔
 فائل کے اندر یہاں پر لکھو کہ یہ آرٹیکل ہے یا فیچر؟ 
اتوار کی شام تک دوبارہ بھیجو

شھباز خان) بی ایس پارٹ تھری)

2k18/MC/98
 نیا پول لنڈا بازارحیدرآباد
 روایزڈ۔
حیدرآباد جس کو پیار اور محبت کرنے والوں کا شہر کہا جاتا ہے اس شہر میں بہت سی بین اقوامی اور قومی دکانیں بھی واقع ہیں جہاں صرف امیر لوگ ہی جا سکتے ہیں لیکن اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں کیوں کے یہ پیار کرنے والوں کا شہر ہے یہاں ان لوگوں کے لئے اس کا متبادل موجود ہے جو لوگ مہنگے برانڈز جیسے بونانزا، آکسفورڈ اور نائک کے کپڑے نہیں خرید سکتے ہیں وہ نیا پل لنڈا مارکیٹ جاسکتے ہیں۔حیدرآباد پکہ قلعہ روڈ پر واقع ایک پل کے نیچے یے لنڈا بازار لگایا جاتا ہے جس پل کو لوگ نئے پل کے نام سے پکارتے ہیں۔

پہلے یہاں صرف لنڈا لگا کرتا تھا لکین اب اس کے ساتھ ساتھ یہاں نئی دکانیں بھی کھل گئی ہیں جہاں لوگ نئی نئی برانڈڈ چیزیں بھی خرید سکتے ہیں۔یہاں آنے والے خریداروں کا کہنا ہے یہاں آپ کپڑوں سے لیکر جوتے اور جوتوں سے لیکر بیگز یہاں تک کہ گھر کے برتن تک خرید سکتے ہیں یعنی مطلب ہر چیز ملی گی۔
نیا پل لنڈا مارکیٹ میں مختلف معاشروں کے لوگ، خاص طور پر پٹھان، بازاروں اور سڑک کے کنارے اپنے عارضی اسٹال لگاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی اس کاروبار میں مبتلا تھے کیوں کہ یہ ان کے آباؤ اجداد کا کام ہے۔
لنڈا بازار میں آپ کو دکانیں بھی ملے گی اور اسٹال بھی اس کا سبب یہ ہے کہ جب بڑی گھاٹے خولی (گھاٹیں کھولی) جاتی ہیں تو اس میں سے اچھا مال چھانٹ کر دکانوں پر رکھ لیا جاتا ہے اور بچا کچھا اسٹال پر سجا دیا جاتا ہے۔جہاں ہر چیز کی الگ الگ قیمت رکھی جاتی ہے جب ان دکان داروں سی بات کی گئی تو انہوں نے بتایا اس سامان میں کئی اشیاء ایسی بھی نکل آتی ہیں جو ایک عام آدمی کے لیے نئی خریدنے نہ ممکن ہیں۔مثلاًآی فون جیسے موبائل بھی نکل جاتے ہیں۔
یہاں آنے والے خریداروں کا کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم میں لنڈا بازار میں گرم کپڑوں پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقامی بازار غریبوں اور مساکین لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔وہ لوگ جو مہنگے برانڈز کے کپڑے نہیں خرید سکتے اور جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کے وہ نئے برانڈز کے کپڑے خریدیں نیا پل پر ہر روز ان خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے اور اگر یہ اتوار ہے تو پوری مارکیٹ خریداروں سے بھری ہوتی ہے یہاں تک کہ آپ کو بازار میں کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ملتی ہے حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آتے ہیں۔پہلے تو صرف یہاں متوسط طبقے کے لوگ آیا کرتے تھے لیکن اب یہاں بڑی بڑی گاڑیوں میں لوگ یہاں آتے ہیں یہ مارکیٹ حیدرآباد کی کسی باڑی مارکیٹ سے کم نہیں۔

جیسا کہ بہت سے لوگ یہاں برانڈڈ کپڑے اور جوتے خریدنے آتے ہیں ویسے ایک طبقہ ان لوگو کا بھی ہے جنہیں الیکٹرانکس چیزوں سے دلچسپی ہوتی ہے کیوں کے الیکٹرونکس کے لنڈا میں ان کو ایسی چیزین مل جاتی ہیں جو یہاں بڑے بڑے برانڈز کی دکانوں پر بھی نہی ملتی اور انکی مضبوطی اور چ
املا کی غلطیاں ہیں
 رپورٹنگ بیسڈ نہیں
منظرکشی کرو
 جو معلومات ہے اس کو دلچسپ انداز میں بیان کرو۔  
فیس بک گروپ پر کچھ نمونے کے طور پر فیچر رکھے ہیں وہ پڑھو

Shahbaz Khan Feature Urdu
شھباز خان) بی ایس پارٹ تھری)
2k18/MC/98
 نیا پول لنڈا بازارحیدرآباد
حیدرآباد جس کو پیار اور محبت کرنے والوں کا شہر کہا جاتا ہے اس شہر میں بہت سی بینالکوامی اور قومی دکانیں بھی واقع ہیں جہاں صرف امیر لوگ ہی جا سکتے ہیں لیکن اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں کیوں کے یہ پیار کرنے والوں کا شہر ہے یہاں ان لوگوں کے لئے اس کا متبادل موجود ہے جو لوگ مہنگے برانڈز جیسے بونانزا، آکسفورڈ، ہینگٹن اور نائک کے کپڑے نہیں خرید سکتے ہیں وہ نیا پول لنڈا مارکیٹ جاسکتے ہیں اور یہاں سے کم قیمت میں یہ سب خرید سکتے ہیں اس جگہ پر آپ ہر طرح کے برانڈز حاصل کرسکتے ہیں: جوتے، جیکٹس، بیگ، زیورات، دستانے، لمبے جوتے اور موزے اور بہت کچھ۔
وہ لوگ جو مہنگے برانڈز کے کپڑے نہیں خرید سکتے اور جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کے وہ نئے برانڈز کے کپڑے خریدیں نیا پول پر ہر روز ان خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے اور اگر یہ اتوار ہے تو پوری مارکیٹ خریداروں سے بھری ہوتی ہے یہاں تک کہ آپ کو بازار میں کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ملتی ہے حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آتے ہیں۔
نیا پل لنڈا مارکیٹ میں مختلف معاشروں کے لوگ، خاص طور پر پٹھان، بازاروں اور سڑکوں کے کنارے اپنے عارضی اسٹال لگاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی اس کاروبار میں مبتلا تھے کیوں کہ یہ ان کے آباؤ اجداد کا کام ہے۔دکانداروں سے گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ تجارت کے افراد کی دو اقسام ہیں ایک براہِ راست ان استعمال شدہ کپڑوں جوتوں اور بہت سی چیزوں کو خریدتے ہیں اور دوسرے نیلامی کے موقع پر اسے خریدتے ہیں ان میں سے کچھ دکاندار عیب والا مال خریدتے ہیں اور پھر اس میں سے صاف مال الگ کرلیتے ہیں دکاندار نے کہا کہ ہم کپڑے بہت مناسب قیمتوں میں دیتے ہیں مگر پھر بھی گاہک اس میں کمی کراتے ہیں بعض اوقات ہم کمی کردیتے ہیں لیکن کبھی ہے ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتا ہے۔
یہاں مرد اور خواتین کی ٹی شرٹس فروخت کی جاتی ہیں اور یہ نئی نئی نظر آتی ہے یہاں تک کہ قمیضوں میں بڑی تعداد میں تازہ روشن رنگ نظر آتے ہیں رات کو پہنے والے ٹراؤزر بھی مل جاتے ہیں۔ اب دیگر تاجر بھی الیکٹرانک اشیاء فروخت کررہے ہیں جس میں، ہیئر اسٹریٹینر، ڈرائر، بلینڈر، چکی، ساؤنڈ اسپیکلیپٹاپ، ان استعمال شدہ الیکٹرانک چیزوں کو خریدنا خطرہ ہے کیوں کہ یہ استعمال شدہ ہوتی ہیں اور ہم اندازہ نہیں لگا سکتے ہے صحیح چلے گی یہ نہیں نیا پول مارکیٹ میں باورچی خانے کا سامان بھی دستیاب ہے لنڈا بازار کی کریری فرائی پین، پیزا پلیٹ، شیشے، چائے پل، مگ اور ٹیبل پلیٹیں جن کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ڈیزائن بہت سادہ اور اچھے بھی ہیں لیکن جو حیرت انگیز لگتے ہیں اور کچھ  گھر کی سجاوٹ کا سامان بھی ملتا ہے جو جو لوگ خریدتے ہیں۔
خریداروں میں سے کچھ نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں لنڈا بازار میں گرم کپڑوں پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقامی بازار غریبوں اور مساکین لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
یہاں مرد اور خواتین کی ٹی شرٹس فروخت کی جاتی ہیں اور یہ نئی نئی نظر آتی ہے یہاں تک کہ قمیضوں میں بڑی تعداد میں تازہ روشن رنگ نظر آتے ہیں رات کو پہنے والے ٹراؤزر بھی مل جاتے ہیں۔ اب دیگر تاجر بھی الیکٹرانک اشیاء فروخت کررہے ہیں جس میں، ہیئر اسٹریٹینر، ڈرائر، بلینڈر، چکی، ساؤنڈ اسپیکلیپٹاپ، ان استعمال شدہ الیکٹرانک چیزوں کو خریدنا خطرہ ہے کیوں کہ یہ استعمال شدہ ہوتی ہیں اور ہم اندازہ نہیں لگا سکتے ہے صحیح چلے گی یہ نہیں نیا پول مارکیٹ میں باورچی خانے کا سامان بھی دستیاب ہے لنڈا بازار کی کریری فرائی پین، پیزا پلیٹ، شیشے، چائے پل، مگ اور ٹیبل پلیٹیں جن کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ڈیزائن بہت سادہ اور اچھے بھی ہیں لیکن جو حیرت انگیز لگتے ہیں اور کچھ  گھر کی سجاوٹ کا سامان بھی ملتا ہے جو جو لوگ خریدتے ہیں۔
خریداروں میں سے کچھ نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں لنڈا بازار میں گرم کپڑوں پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقامی بازار غریبوں اور مساکین لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔خریداروں کا کہنا ہے بعض اوقات خوش قسمتی سے انہیں لنڈا کے کپڑوں سے کچھ قیمتی سکے ملے جیسے ایک صارف نے کہاایک بار اس کے پاس ایک امریکی ڈالر ایک بیگ سے مل گیا تھا۔ ”ایک اور صارف نے بتایا کہ اسے کیمرا کا میموری کارڈ مل گیا ہے اور اس کا ذخیرہ 32 جی بی کے قریب ہے لہذا یہ حیرت انگیز ہے۔نیا پول لنڈا بازار اپنے خریداروں کو ہر چیز کی پیش کش کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ استعمال شدہ مواد ہے لیکن یہ غریبوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لاتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور انکے چہرے پر خوشی لاتا ہے لہذا اس کی اہمیت انمول ہے۔