Showing posts with label Sonia Shaikh. Show all posts
Showing posts with label Sonia Shaikh. Show all posts

Sunday, 1 March 2020

Sonia Shaikh Profile Urdu BS 144


Not checked
For profile providing foto is responsibility of writer
پروفائل۔ سونیہ شیخ۔ بی ایس رول نمبر144۔

مسز راجا کی تنہائی
زندگی خدا کی طرف سے دی ہوئی ایک عجیب بھید ہے۔ ہر انسان کو اپنی عرصہء حیات میں مختلف للکاروں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے، جس کا گہرا اثر ان کی طبعیت و مزاج پر پڑتا ہے۔انسان کے لیے کوئی بھی چیز حاصل کرنا ناممکن نہیں، بس غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے مقصد کو پانے کی لگن اور اسے حاصل کرنے کی جستجو اس کی مخصوص کہانی بن جاتی ہے۔جو اسے ہر ایک شخصیت سے منفرد کر تی ہے۔ اور وہ کہانی کسی کے لیے سبق اور کسی کے لیے عبرت کا باعث بنتی ہے۔ ہر انسان کی اپنی کہانی ہوتی ہے، اسی طرح سمیرہ کی بھی ایک اپنی کہانی ہے۔
سمیرہ ایک ایسی عورت کا نام ہے جوکسی مرد کے سہارے کی محتاج نہیں۔فقط ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ باطنی خوبصورتی کی بھی مالکن ہے۔ بات کرنے کا انداز ایسا ہے جسے ہم اپنے دوست سے بات کر رہے ہوں۔ مذاق کرو تو ہنساتی ہے، مگر غصہ بھی غضب ناک کرتی ہے۔ ان کے چہرے کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کئی ایسی باتیں ہیں جو بولی نہیں جاسکتی مگر وہ چہرے سے عیاں ہیں۔
18جون سمیرہ کی پیدائش کے بعد آج تک انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی مشکلاتوں کا سامنہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی بڑے کا سایہ اپنے سر پر زیادہ وقت نہیں دیکھا۔ رشتے میں جتنے بھی بزرگ تھے وہ ان کو بہت پہلے ہی اکیلا چھوڑ گئے۔ جب چودہ برس کی تھیں، ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ ماں کی جدائی میں بڑی تکلیف میں رہتی تھی۔ کیوں کہ والدہ کے انتقال کے بعد پورا گھر بکھر گیا۔ روز کے جگڑوں اور گھر کے مسائل سے بچنے کے لیے والد نے سمیرہ کی 16 برس ہی میں شادی کردی۔ شادی کے بعد ان پر بہت ذمے داریاں آئیں۔ ساس کی صورت میں ان کو ماں کا پیار نصیب ہوا پر کچھ وقت کے بعد ان کا بھی سایہ سر سے ہٹ گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خود کو سنبھالا اور اپنے گھر پر توجہ دی تاکہ اپنے گھر کے کام بخوبی انجام دے سکیں۔ سمیرہ کبھی کبھی ایسے ہی کارخانے میں جا کر اپنے شوہر سے باتوں باتوں میں کام سیکھتی تھی۔ اس کا فارغ وقت اپنے شوہر کے ساتھ کام سیکھتے ہی نکل جاتا تھا۔ وہ وقت ان کی زندگی کا بڑا خوبصورت وقت تھا جب ان کے پاس سب کچھ تھا اور خوش رہنے کی وجہ بھی تھی۔ مگر کام سکھتے وقت ان کو اس بات کا گمان بھی نا تھا کہ آگے چل کر ایک ایسا وقت آئے گا جب یہ خود پورا کاروبار چلائیں گی۔
چھ جون 2018 میں ان کی زندگی نے بڑا سخت موڑ لیا۔ ان کی زندگی میں ایسی تبدیلی آئی جس نے سمیرہ کی شخصیت کو بدل کر رکھ دیا۔ اب وہ اپنی زندگی میں بہت مصروف رہنے لگی ہیں۔اپنے گھر کے کام کے بعد صرف کاروبار میں مصروف رہتی ہے۔ یہ معاشرے میں ایک بڑی بردبار عورت کی مثال ہیں۔ جو اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہیں جو ان کے کارخانے کے اوپر بنا ہوا ہے۔ تقریبا دو سالوں سے وہ اپنا کاروبار سنبھالتی آرہی ہیں۔ شروعات میں ان کو اپنا کاروبار سنبھالنے میں بڑی مشکل ہوئی کیوں کہ اچانک سے پورا کاروبار سنبھالنا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔ لکڑی کا چھاپہ کوئی آسان کاروبار نہیں جو کوئی بھی اکیلے میں کر لے۔ پہلے لکڑی کی گسائی کی جاتی ہے۔ گسائی کے بعد کٹائی اور پھر اس پر چھاپہ بنایا جاتا ہے۔ جس کے بعد کراچی میں اس مال کو پہنچا کر لین دین کی جاتی ہے۔ یہ سارا کام عورت ذات ہوکر سمیرہ اکیلے میں کرتی ہے۔ یقینا کوئی بھی کاروبار سنبھالنا آسان نہیں ہے۔ پر ایسی مزدوری کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ لیکن سمیرہ یہ کام بھی اکیلے میں کرتی ہے۔ ناصرف یہی اپنے گھر کو  اور اپنے بچوں کو بھی خود سنبھالتی ہے۔ان کو اسکول، ٹیوشن اور مدرسہ پڑھانا ان کی ہی ذمے داری ہے۔ اپنے بچوں کو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ ان کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ان کی ہر خوشی کا بھی پورا خیال رکھتی ہیں۔کبھی نانی کے یہاں لے جاکر انہیں باہر سیر و تفریح کروا لیتی ہے اور کبھی کسی تہوار میں لے جاتی ہے۔
سمیرہ ایک ایسی زندگی بسر کررہی ہے جس میں ان کا نہ کسی کے پاس اتنا آنا جاناہے نہ ہی کوئی ان کے پاس اتنا آتا جاتا ہے۔یہ اکیلے ہی پورے معاشرے کے خلاف اپنے اور اپنے بچوں کے خلاف اپنے حق کے لیے لڑتی ہے۔ انہیں کبھی کبھی کورٹ کے چکر کی وجہ سے اپنے بچوں کو گھر میں بند کر کے جانا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے کچھ لوگ تو ان سے گھر کا دروازہ بند کر جانے پر ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔اپنے ہوکر ان کی مجبوری سمجھتے نہیں الٹا اس پر طعنہ مارتے ہیں۔ سمیرہ ان تمام باتوں کو برداشت کرکے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگی رہتی ہے۔ اب ان کی کوئی کاروبار چلانے پرطعنے دے یا گھر کو بندکر جانے پر اعتراض کرے ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس ان کا یہ یقین ہے کہ خدا نے اگر اس بڑی آزمائش میں رکھا ہے تو وہ ضرور اس کا اچھا اجر دے گا۔
سمیرہ کو دیکھ کر یقین نہیں ہوگا کہ وہ نوں گرد یتیمی بچوں کی ماں ہیں۔ اپنے بچوں کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیا اور اپنے گھر کو بکھرتے بکھرتے ہوئے سنبھالا۔ ان کو اپنے بچوں کو چھوڑ کر جانے کا خیال بھی نہیں آیا۔حالانکہ اس معاشرے میں اکیلے رہنا اور معصوم بیٹیوں اور بیٹوں کو سنبھالنا مشکل ہے۔ ان کو ہر وقت اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر رہتی ہے۔ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے بڑے ہوکر کامیاب ہوں کسی کے محتاج نہ بنیں۔ اس لیے وہ دن رات ان کے لیے محنت کرتی ہے۔نہ اپنے آرام کا خیال رکھتی ہیں نہ اپنی صحت کا خیال رکھتی ہے فقط ایک ہی فکر ان کو رہتی ہے کہ میرے بچے خوش و سلامت رہیں۔ کسی چیز کی کمی ان کو نہ رہے۔  

Thursday, 13 February 2020

Sonia Shaikh Feature Urdu 144


منظرکشی کرو یا پھر متعلقہ لوگوں سے بات چیت کر کے دلچسپ جملے لو۔ فیچر کو رپورٹنگ بیسڈ ہونا چاہئے 
شروع کے جملے اضافی ہیں

فیچر۔ سونیہ شیخ۔ بی ایس رول نمبر۔144
دینو کا پڑ اور اس کے ہنرمند لوگ
شہر حیدرآباد صوبائے سندھ کا ایک بڑا شہر ہے، جو پہلے نیرون کوٹ کہلاتا تھا۔کلہوڑوں کے دور میں اس کا نام حیدرآباد رکھا گیا اور اسے سندھ کا دارلحکومت بنایا گیا۔ 
حیدرآباد شروع سے ہی کاروبار کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس شہر کا سب سے بڑا کاروبار چوڑیوں کا ہے۔ یہاں کی بنی ہوئی چوڑیاں پورے ملک میں فراہم کی جاتی ہیں۔یہ شہر چوڑیوں کو بڑے پیمانے پر فراہم کرنے کا واحد مرکز ہے۔ جو پورے ملک میں بہت مشہور ہیں۔ حیدرآباد شہر اس کے علاوہ کئی کاروباروں میں مشغول شہر ہے۔ اس شہر کے الگ الگ علاقوں میں چھوٹے بڑے پیمانے پر مختلف کاروبار موجود ہیں۔ اس کا ایک مثال دینو کا پڑ ہی لے لیجئیے۔
دینو کا پڑ کھائی روڈ پر موجود ہے۔ یہاں کے لوگ بہت محنتی اور اپنے کاموں میں سرگرم رہنے والے ہیں۔ ان لوگوں میں یہ بات بہت اچھی ہے کہ یہ ایک گھر کی طرح آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔جن میں ایک دوسرے کا خیال، احساس اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ جب کوئی بڑا دن مذہبی یا تاریخ کے لحاظ سے آتا ہے، تو یہ سب مل کر اس دن کو مناتے ہیں۔ اپنی گلیوں کو پھولوں سے سجاتے ہیں اور رنگین روشنیوں سے روشن کرتے ہیں۔ یہ ان کے بھائی چارے اور اتحاد کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ یہاں کے رہنے والے خاندان کئی سالوں سے اس جگہ کے مقین ہیں۔
اس جگہ پر ایک سے زیادہ کاروبار ہیں۔ جن میں کاغذ، چمڑے، رنگ ریز اور لکڑی کے چھاپے کے کاروبار سالوں سے چلتے آرہیں ہیں۔ یہ تمام کاروبار بہت پرانے ہیں اور یوں کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ خاندانی کاروبار ہیں۔ کاروبار چاہے کوئی بھی ہو، اسے چلانے کے لیے بڑی محنت اور وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کو کامیاب بنانے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں اور اگر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس سے لڑ کر اپنا کام پورا کرتے ہیں۔اس سے یہاں کے لوگوں کی محنت اور لگن کا اندازہ ہوتا ہے۔
کاغذ سے کاپی یا رجسٹر بنانے کا کاروبار تقریباً تیس سالوں سے چلتا آرہا ہے۔ یہ لوگ لاہور سے یا کراچی سے کاغذ خریدتے ہیں پھر اردو بازار یا میرپورخاص سے آرڈر لے کر ان کو مختلف قسم کی کاپیاں اور رجسٹر دو سو، تین سو اور چار سو پیجز کے بناکر دیتے ہیں۔ چمڑے کے کاروبار میں چپل اور بیگز بڑی مہارت سے بنائے جاتے ہیں۔ چمڑے کے کاروبار میں یہاں تین سے چار دکان مصروف رہتے ہیں۔ ایک دکان پر مارکیٹ سے چمڑہ آتا ہے، جہاں چمڑے کو جوتے کی مختلف ناپ پر کاٹا جاتا ہے۔ یہ کام ایک پریس مشین سے کیا جاتا ہے۔ جس میں ایک ناپ کا سانچہ رکھ کر اس کے اوپر چمڑے کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے۔ پھر پریس مشین کے ذریعے وہ ٹکڑا اس ناپ پر کٹ جاتا ہے۔ ایسے ہی چمڑے کو مختلف ناپ میں کاٹ کر دوسری دکان تک پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں مختلف قسم کی ذزائینز سے اسے جوتے کی شکل دے کر آگے پہنچایا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً پچاس ساٹھ سالوں سے یہ کام ہو رہا ہے۔ پہلے لوکل مارکیٹ کے آرڈر پورے کیے جاتے تھے اور اب پاکستان کی مشہور برانڈز باٹا، سروس اور بورجان کے آرڈر پورے کیے جاتے ہیں۔لاہور (اے۔ٹی۔ایس پاکستان کی نامور برانڈ) سے پورے سال کا آرڈر لیتے ہیں، پھر ان کو وقت پر ان کا مال پہنچاتے ہیں۔ ساتھ ہی ایک دکان جوتے کے باکس بھی بناتی ہے۔ یعنی اس چھوٹے سے علاقے میں ایک چمڑے کا ٹکڑا خوبصورت اور نایاب شکل اختیار کر کے باکس میں مارکیٹ تک پہنچایا جاتا ہے۔
                         
رنگ ریز ایک ایسی مزدوری کا نام ہے جس میں کپڑوں کو ہینڈ ڈائے کیا جاتا ہے۔یہ کام لوگ اپنے گھر میں کرتے ہیں۔ آرڈر پر ریشم گلی سے کپڑے لاتے ہیں اور جیسے مالکان مطالبہ کرتے ہیں ویسے ہی رنگ ان کپڑوں پر چھڑا کر مالکان تک پہنچاتے ہیں۔ رنگ ریز کا کام بڑی احتیاط سے کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ کپڑوں کی رنگائی کے لیے پُر جوش آب میں رنگ ڈال کر کپڑوں کو ہوشیاری سے غوطے لگائے جاتے ہیں۔ رنگ ریز کے کام کو ستر سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔یہاں یہ کام پاکستان بننے سے پہلے لوگ انڈیا سے کرتے آرہے ہیں۔ ان تمام محنت کش کاموں میں سب سے پرانا کاروبار لکڑی کا چھاپہ ہے۔
لکڑی کا چھاپہ بہت قدیم اور اس جگہ کا سب سے مشہور کاروبار ہے۔یہ کاوربار دوسرے کاموں سے زیادہ محنت کش اور مشکل ہے۔ اس کام کو وقت پر پورا کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ کیوں کہ دوسرے کا تو ہاتھ سے بھی کیئے جاتے ہیں، مگر یہ کاروبار بجلی پر چلتا ہے۔ اگر بجلی کا بحران ہو جائے تو ان کو اپنا کاروبار چلانے میں بڑی مشکلیں درپش آتی ہیں۔ تقریباً ایک صدی سے یہ کاروبار ان کے آباواجداد چلاتے آرہے ہیں۔ پہلے یہ کام ہاتھوں سے کیا جاتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے اوزاروں سے لکڑی پر نقش نگاری کی جاتی تھی، پھر اس کی ہاتھ سے کٹائی کی جاتی تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ مشینوں کی جدت آئی، جس سے یہ کام تھورا آسان ہوا۔
                               
 افغانستان سے دیار، چلغوذہ(لکڑی کے اقسام) اور پنجاب سے شیشم ٹمبر مارکیٹ میں آتی ہیں، یہ لوگ  وہاں سے وہ لکڑی خریدتے ہیں۔لکڑی اگر خشک نہیں ہوتی تو اسے تین سے چار دن تک رکھتے ہیں پھر اس  پر کام شروع کرتے ہیں۔ یہ کام چھ سے سات لوگوں کا ہوتا ہے۔پہلے گسائی مشین میں لکڑی کی گسائی ہوتی ہے۔ پھر ہاتھ سے نقش نگاری ہوتی ہے یا پریس مشین میں ڈائی(مختلف ناپ اور ڈزائینز کے لوہے کے سانچے) رکھ کر مختلف قسم کے ڈزائینز بنائے جاتے ہیں۔ جس میں سندھی، بلوچی، اجرک، کینوس، بنارسی اور پَشکِ نایاب جیسی خوبصورت ڈزائینز قابل ذکر ہیں۔ اس کے بعد آرا مشن میں لکڑی کی کٹائی کی جاتی ہے۔ آخر میں ان لکڑی کے ٹکڑوں کو صاف کر کے ان پر رنگ کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان تمام مختلف ڈزائینز کے سیٹ کو الگ الگ تھلے میں محفوظ کر کے دکاندار تک پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ اندورن سندھ، بلوچستان اور ایران تک فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ کاروبار اس علاقے کا مشہور کاروبار ہے، جو دینو کے پڑ کو دوسروں سے الگ کرتا ہے۔

Sunday, 26 January 2020

Sonia Shaikh BS Roll 144 Article Urdu

Selected for Roshni 1st issue
 فائیل کے اند ر نہ آپ کا رول نمبر ہے اور نہ کلاس
  فائیل کا نام بھی غلط ہے۔ مسلسل فیس گروپ پر سمجھانے کے باوجود ایسا کیوں؟ 
File name should be Article- Sonia- BS-Roll 144 
ہندسے تبدیل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے غلطی ہو سکتی ہے

موئن جودڑو کی زبان جاننے کے لیے کی گئی کانفرنس

۲۶ صدی قبل مسیح ضلح لاڑکانہ سے ۲۸ کلومیٹر دور سندھو دریا کے مغرب میں ایک تہذیب موجود تھی      ۔ جو ۰۰۹۱ قبل مسیح زوال کی ضد میں آکر ایک کھنڈر کی شکل اختیار کر بیٹھی۔ کئی ریسرچز کے باوجود آرکالاجسٹ اس شہر کا اصل نام معلوم نا کر سکے۔ اس جگہ کا نام موئن جو دڑو کسی تحقیق کے مطابق نہیں رکھا بلکہ یہ وہاں کے مقامی لوگوں نے رکھا کیوں کہ اس زمین کے نیچے ایک پورا شہر دفن ہے۔
۰۰۷۳ سالوں تک اس جگہ پر کوئی کام نہ کیا گیا۔ ۹۱۹۱۔۰۲۹۱ میں آرکیالاجسٹ رکھل داس بنرجی نے یہاں کا جائزہ لیا۔ پھر کاشی ناتھ نارائن ڈکشٹ نے ۴۲۹۱۔۵۲۹۱ میں کھدائی کی۔۵۲۹۱۔۶۲۹ ۱ تک جان مارشل نے وہاں ریسرچ کی۔ جس کے بعد ۰۳۹۱ میں ایک بڑی کھدائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں ایک سے زیادہ آرکیالاجسٹ شامل تھے۔ ۴۶۹۱۔۵۶۹۱ میں اس سلسلے کی آخری کھدائی کی گئی۔ جس کے بعد موئن جو دڑو کی کھدائی منصوخ کی گئی۔کیوں کہ اس ریسرچ کے سلسلے سے اس جگہ کو بڑا نقصان پہنچ رہا تھا۔۰۸۹۱ ایک جرمن اور ایک اٹیلین آرکیالاجسٹ نے مقامی تکنیک کا استعمال کر کے دوبارہ ریسرچ کی۔
ان تمام تر تحقیقوں کا مقصد وہاں کی تہذیب کا علم حاصل کرنا تھا۔آج تک وہاں کی تہذیب کا کوئی بھی صحیح سے اندازہ نہ لگا سکا۔ کیوں کہ ہنوز آرکیالاجسٹ کو موئن جو دڑو کی زبان کا علم حاصل نہیں ہوسکا۔بلاشبہ،زبان ایک ذریعہ ہے جس سے ہم کسی تہذیب کی ثقافت،رہن سہن،عقائد اور رسم و رواج کو جان سکتے ہیں۔ زبان ہی ایک ایسا ذریعہ ہے، جس سے ہم نہ صرف ایک تہذیب کا اظہار خیال سمجھ سکتے ہیں بلکہ اس کی تاریخ بھی جان سکتے ہیں۔
ان تمام ریسرچز سے کچھ باتوں کا علم ہوا۔جیسے کے وہ ایک بڑا میٹروپولیٹن شہر تھا۔جہاں تحقیق کے مطابق ایک مرکزی مارکیٹ تھی،۰۰۷ کنویں،نکاسیء آب اور نہانے کا منظم انتظام تھا، راستوں اور عمارتوں کی بناوت سے ان کی مہارت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔کھدائی کے دوران وہاں سے کئی زیورات، برتن،سونا، گھر میں استعمال ہونے والے سامان اور کچھ مجسمے بھی ملے، جن میں ایک ماں دیوی، پادریوں کے سردار اور رقاصہ کے مجسمے شامل ہیں۔تحقیق میں کئی ایسی چیزیں بھی ملیں، جن پر کچھ علامتیں یا تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ نہ صرف سونااور پتھر تراشنے میں ماہر تھے بلکہ وہ لکھنے کا بھی علم رکھتے تھے۔
حا ل ہی میں شعبۂ ثقافت کے سیکریٹری اکبر لغاری اور ڈی۔جی  منظور احمد قناصرو نے تین دن کی ورکشاپ کے متعلق کانفرنس کی۔اس ورکشاپ میں موئن جو دڑو کی زبان جاننے کے لیے عالمی سطح پر تاریخی نوادرات کا مطالعہ کرنے کے لیے مختلف ممالک کے ماہرین تحقیق شامل تھے۔یہ ورکشاپ ۹ جنوری ۰۲۰۲ سے ۱۱ جنوری ۰۲۰۲ تک جاری رہی۔اس ورکشاپ میں مختلف ماہرین تحقیق نے اپنے تحقیقی مقالمے پیش کیے۔ تحقیق میں موئن جو دڑو کی نقش نگاری، تکنیک اور انداز پر بحث ہوا۔
ڈاکٹر گریک جیمسن نے اپنا تحقیقی مکالمہ تین مختلف مہرون پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہریں کسی جگہ پر ایک جیسی ملتی ہیں اور کہیں بلکل مختلف، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو لکھنے کا علم تھا۔ ڈاکٹر ڈینیز فرینز کی تحقفق کے مطابق مٹی کے مختلف برتوں اور سامان پر مختلف علامتیں موجود تھیں،جو شاید وہاں کی ضابطتگی اور انتظامی مقصدوں کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ ڈاکٹر نشا یادیو نے انفرادی طور پر اپنی تحقفق پیش کی۔انہوں نے کہا کہ انڈس اسکرپٹ اپنی ساخت میں لسانی ماڈل ہے۔تحقیق کے بعدسامنے آنے والی چیزوں سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ نقش نگاری اور علامتیں بامقصد ہیں۔ جو وہاں کی سماجی انتظام اور قانون کی عکاسی کرتا ہیں۔
ریسرچ کے آخری روز کانفرنس میں حتمی نتائج پیش کیے گئے اور عالمی سطح پر کی گئی ورکشاپ موئن جو دڑو کی زبان جانے بغیر اختتام پزیر ہوئی۔اس کانفرنس میں یہ بتایا گیا کہ اس تاریخی مقام پر ریسرچ کرنے کے لیے دس سال بھی کم ہیں۔ یہ تاریخی مقام بہت بڑے تحقیقی خزانے سے بھرا ہوا ہے۔آمریکی ماہر جوناتھن مارک کنائر کے مطابق موئن جو دڑو کی زبان جاننے کے لیے، پہلے قدیم زمانے کی دو زبانوں کا بوقت مطالعہ کرنا چاہیے، پھر کوئی نتیجا اخذ کیا جا سکتا ہے۔اس کانفرنس کے اختتام میں ڈاکٹر کلیم اللہ نے طویل خطاب کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر پروگرامز کرنے کی تجویز دی اور تحقیق کو کتاب کی شکل دینے کا خیال پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جدید تحقیقی ریسرچ کے قاعدے اور اصول متعارف کرنے اور تمام قدیمی نوادرات کا رکارڈ کمپیوٹرائیز کرنے کی اپنی رائے پیش کی۔
موئن جو دڑو کی تاریخ جاننے کے ساتھ حکومت کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کے ان تمام قیمتی نوادرات کی حفاظت کریں۔کیوں کہ آج تک موئن جو دڑو، جو ۰۰۳ ہیکٹرز پر مشتمل ایک شہر ہے، کی ۰۱ فیصد کھدائی کرنے سے بیشمار قیمتی نوادرات ملے ہیں۔اگر ۰۹ فیصد اور کھدائی کی گئی تو اس نوادرات کے خزانے کو محفوظ کرنے کے لیے بھی حکومت کو بہتر اقدامات اٹھانے چاہیے۔