Showing posts with label 47. Show all posts
Showing posts with label 47. Show all posts

Monday, 2 March 2020

Falak Hafsa - Profile- Urdu BS-47 Revised

Sent after due date 
Revised
This will not be published without photo 

Shilza Sadaf  Profile by Falak Hafsa - Profile- Urdu  BS-47 Revised

بہترین رہنمائی صلاحیت کی حامل 
شلزا صدف
فلک حفصہ
2k18/mc/47
کسی بھی کامیابی کے پیچھے ایک ٹیم ورک کا کام ہوتا ہے۔اسی ٹیم ورک کومثبت پہلو دینے کے لیے ایک بہترین رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کے چلے اورکامیابی کی نئی مثال قائم کرے۔ایک اچھے رہنماکی رہنمائی سے نہ صرف کامیابی حاصل ہوتی ہی بلکے لوگوں میں بھی ان کی شہرت اور پذیرائی ملتی ہے۔یہ ہی حال لطیف آباد نمبر۵ کے اسکول میں زیر تعلیم طلباء کی نمایا ں کارکردگی ہے جن کی اس نمایاں کارکردگی کی پیچھے ان کے اساتذہ کی محنت ہے۔اور ان سب استادوں کو رہنمائی کرنے والی ہیڈ مسٹریس شلزا صدف،جن کے بغیر یہ سب کام مشکل تھا۔اچھے رہنما میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی بات بہتر طریقے سے اپنے ساتھیوں تک پہنچائے اور ان کو اپنا ہم خیال بنائے تا کہ عملی کام میں کوئی رکا وٹ نہ آئے۔اور یہ سب قابلیت اور صلاحیت میم شلزا میں موجود ہیں۔کہ کیسے اپنی اساتذہ ساتھیوں کے ہنر کو ابھارنا ہے۔اور کس طرح عملی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانا ہے۔
لطیف آباد نمبر ۵ کے گورنمٹ اسکول میں تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ اس اسکول کا بچہ بچہ بغیر کسی ججھک کے اپنی سمجھی ہوئی بات اپنے دوسرے ساتھوں کو سمجھا سکتا ہے بلکے دیگر کھیل اورتعلیمی مقابلوں میں بھی نمایا مقام حاصل کرتا ہے۔ان بچوں کے شخصیت کو ابھارنے میں سب سے بڑا ہاتھ میم شلزا اور ان کے اسٹاف میمبر کا ہے۔
کراچی کے شہر کے مختلف اسکولوں میں اپنی تدریسی فرائض کو انجام دیتے ہوئے ہیڈ مسڑیس شلزا صدف نے جو کچھ وہاں سیکھا اب وہ تمام صلاحیتیں اپنے اسکول اور اساتذہ میں اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔انکا ماننا ہے کہ کوشش کرنے سے سارے مشکل کاموں کا حل آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔سادہ اور کھری طبعیت کی ما لک شلزا کا کہنا ہے کہ بچے کسی بھی ملک کے مستقبل کا سرمایا ہوتے ہیں۔انکی پڑھائی کے معاملے میں کوئی سمجھوتا یا کمی بیشی نہ ہو۔علم کی تعلیم دینا اور ساتھ ساتھ بچوں کو اس قابل بنانا کہ وہ بھی اپنی حاصل کردہ تعلیم سے اپنے ارد گرد کے لوگوں میں بھی شعور پیدا کر سکے۔
انکے اسکول میں پڑھانے والی اساتذہ کا کہنا ہے کہ شلزا کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسکول کے بچوں میں ایسا اعتماد پیدا کرنا ایسی صلاحیت پیدا کرنا کہ اسکول میں پڑھنے والے بچے اپنی بات خود اعتمادی کے ساتھ آگے بیان کر سکے۔اور یہ بات ثابت بھی ہوئی کہ جما عت نرسری سے لے کر جماعت پانچویں تک کے طالب علم اپنی نظموں اپنی کتابوں کے اسباق کو پریزنٹیشن کے ذریعے پنے دوسرے ساتھی طالب علم کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں یہ کہ سکتا ہوں اور یہ کر سکتا ہوں۔۔اور یہ سب تبھی ممکن ہوا جب میم شلزا اور انکے اسکول کے اساتذہ نے بچوں کی ان صلاحیتوں کو ابھارا۔میم شلزا جانتی ہیں کہ کس میں کتنی صلاحیت ہے اور کس طرح سے ان کی صلاحیتوں کو کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اور اپنی بات کو منوایا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اسکول میں ان کے زیر نگرانی میں پڑھنے والے بچے اس قابل ہوئے ہیں کہ وہ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ہر کام میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
میم شلزا کا مزید کہنا ہے کہ کوئی بھی کام نا ممکن نہیں ہوتا اور کوشش کرنے سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے جس کے لیے محنت اور لگن درکار ہیں۔میرا اصل مقصد یہی ہے کہ بچوں کو تعلیمی حوالے سے کوئی کمی بیشی نہ ہو۔تعلیم حاصل کرنا سب کا فرض ہے اور اسی تعلیم کے سبب ہمارے بچے ہمارے ملک کے نمایاں سرمایا ہوتے ہیں۔


یہاں فائیل کے اندر آپ کو اپنا نام، رول نمبر اور کلاس اردو اور انگریزی میں لکھنا چاہئے 
 یہ تیسرا پیس ہے، اب تو صحیح سے بھیجنا چاہئے تھا
 پروفائیل اور فیچر کے لئے فوٹو بھیجنا مصنف کی ذمہ داری ہے۔  مقررہ معیار سے تقریبا ایک سو الفاظ کم ہیں 
بہترین رہنمائی صلاحیت کی حامل 
شلزا صدف
کسی بھی کامیابی کے پیچھے ایک ٹیم ورک کا کام ہوتا ہے۔اسی ٹیم ورک کومثبت پہلو دینے کے لیے ایک بہترین رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کے چلے اورکامیابی کی نئی مثال قائم کرے۔ایک اچھے رہنماکی رہنمائی سے نہ صرف کامیابی حاصل ہوتی ہی بلکے لوگوں میں بھی ان کی شہرت اور پذیرائی ملتی ہے۔یہ ہی حال لطیف آباد نمبر۵ کے اسکول میں زیر تعلیم طلباء کی نمایا ں کارکردگی ہے جن کی اس نمایاں کارکردگی کی پیچھے ان کے اساتذہ کی محنت ہے۔اور ان سب استادوں کو رہنمائی کرنے والی ہیڈ مسٹریس شلزا صدف،جن کے بغیر یہ سب کام مشکل تھا۔اچھے رہنما میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی بات بہتر طریقے سے اپنے ساتھیوں تک پہنچائے اور ان کو اپنا ہم خیال بنائے تا کہ عملی کام میں کوئی رکا وٹ نہ آئے۔اور یہ سب قابلیت اور صلاحیت میم شلزا میں موجود ہیں۔کہ کیسے اپنی اساتذہ ساتھیوں کے ہنر کو ابھارنا ہے۔اور کس طرح عملی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانا ہے۔
لطیف آباد نمبر ۵ کے گورنمٹ اسکول میں تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ اس اسکول کا بچہ بچہ بغیر کسی ججھک کے اپنی سمجھی ہوئی بات اپنے دوسرے ساتھوں کو سمجھا سکتا ہے بلکے دیگر کھیل اورتعلیمی مقابلوں میں بھی نمایا مقام حاصل کرتا ہے۔ان بچوں کے شخصیت کو ابھارنے میں سب سے بڑا ہاتھ میم شلزا اور ان کے اسٹاف میمبر کا ہے۔
کراچی کے شہر کے مختلف اسکولوں میں اپنی تدریسی فرائض کو انجام دیتے ہوئے ہیڈ مسڑیس شلزا صدف نے جو کچھ وہاں سیکھا اب وہ تمام صلاحیتیں اپنے اسکول اور اساتذہ میں اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔انکا ماننا ہے کہ کوشش کرنے سے سارے مشکل کاموں کا حل آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔سادہ اور کھری طبعیت کی ما لک شلزا کا کہنا ہے کہ بچے کسی بھی ملک کے مستقبل کا سرمایا ہوتے ہیں۔انکی پڑھائی کے معاملے میں کوئی سمجھوتا یا کمی بیشی نہ ہو۔علم کی تعلیم دینا اور ساتھ ساتھ بچوں کو اس قابل بنانا کہ وہ بھی اپنی حاصل کردہ تعلیم سے اپنے ارد گرد کے لوگوں میں بھی شعور پیدا کر سکے۔
انکے اسکول میں پڑھانے والی اساتذہ کا کہنا ہے کہ شلزا کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسکول کے بچوں میں ایسا اعتماد پیدا کرنا ایسی صلاحیت پیدا کرنا کہ اسکول میں پڑھنے والے بچے اپنی بات خود اعتمادی کے ساتھ آگے بیان کر سکے۔اور یہ بات ثابت بھی ہوئی کہ جما عت نرسری سے لے کر جماعت پانچویں تک کے طالب علم اپنی نظموں اپنی کتابوں کے اسباق کو پریزنٹیشن کے ذریعے پنے دوسرے ساتھی طالب علم کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں یہ کہ سکتا ہوں اور یہ کر سکتا ہوں۔۔اور یہ سب تبھی ممکن ہوا جب میم شلزا اور انکے اسکول کے اساتذہ نے بچوں کی ان صلاحیتوں کو ابھارا۔میم شلزا جانتی ہیں کہ کس میں کتنی صلاحیت ہے اور کس طرح سے ان کی صلاحیتوں کو کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اور اپنی بات کو منوایا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اسکول میں ان کے زیر نگرانی میں پڑھنے والے بچے اس قابل ہوئے ہیں کہ وہ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ہر کام میں نمایاں نظر آتے ہیں۔؎

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi, at Institute of Media & Communication Studies, University of Sindh, Jamshoro, Sindh Pakistan

Sunday, 9 February 2020

Falak Hafsa Feature Urdu Revised 47

Editors pls while editing keep in mind  noting abt referred back                   
           خواہشات مار دیتی ہیں 
فلک حفصہ 
2k18/MC/47
خواہش لفظ سنے میں کتنا ہلکا اور میٹھا لگتا ہے۔مگر در حقیقت میں اتنا ہی بھاری اور کڑواہوتا ہے۔کسی دانا کا کہنا ہے کہ بعض خواہشات کا مر جانا ہی بہتر ہوتا ہے،کیونکہ اگر وہ نہیں مرتی تو وہ آپ کو مار دیتی ہیں۔کسی بھی چیز کی خواہش کرنا برا نہیں ہوتا۔ مگر انہیں خواہشات کے پیچھے بھاگ کر اپنوں کو تکلیف دینا یا کسی لاحاصل چیز کے چکر میں حاصل کو کھو دینامنفی عمل ہوتا ہے۔آج کے دور میں خواہشوں کے پیچھے بھاگنے والے اور پھر اپنی زندگی کو برباد کرنے والوں کی مثالیں کثرت کی تعداد میں موجود ہیں۔بے جا خواہش کے پیچھے بھاگنے والاخواہ مرد ہو یا عورت،نقصان اٹھاتا ہے۔اور کبھی کبھی یہ نقصان اس کے گھر والوں کے بھی زمرے میں بھی آتا ہے۔بے جا خواہشوں کی وجہ سے لوگ اپنا آپ برباد کرلیتے ہیں۔اور جب بعد میں ان کو احساس ہوتا تو اپنی بربادی کا سوگ منا کر اپنی زندگی گزار لیتے ہیں۔مگر کچھ لوگ اپنی بے جا خواہشات کے تکمیل کے نشے میں اتنے آندھے ہوجاتے ہیں کہ اپنی بربادی کا سامان دیکھ بھی نہیں سکتے۔
یہی حال لطیف آباد نمبر ۴ میں رہنے والی عورت فاطمہ کا ہے جو پیسوں کا ذخیرہ جمع کرنے کے باوجود بھی کرائے کے گھرمیں غریبوں جیسی زندگی گزار رہی ہے۔ اپنوں اور رشتہ داروں کے ہونے کے باوجود بھی تنہا ہے۔آخرکیوں؟ان کے بیٹے حسن اور بہو کا کہنا ہے کہ فاطمہ بی انکے ساتھ خوش حال ذندگی گزار رہی تھی۔اور پیشہ ور نرس تھی۔میری کمائی سے گھریلوں حالات بھی خوش گوار تھے۔مگر فاطمہ بی کوپیسے جمع کرنے کا شوق تھا۔ان کی خواہش تھی کہ وہ ڈھیر سارے پیسے جمع کریں اور دنیا کو بتا سکے کہ ان کو کسی چیز کی کمی نہیں۔انکے بیٹے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی خواہش کی تکمیل کی وجہ سے وہ فطرت میں بخیل تھی۔اپنی تنخواہ کو جمع کرکے رکھنا اس کا شو ق تھا۔اور نہ کبھی ہم نے ان سے پیسوں کا مطالبہ کیا۔جب مہنگائی کی وجہ سے میرے گھریلو حالات تھوڑے خراب ہونا شروع ہوئے تو فاطمہ بی کو اس بات کا خدشہ ہوا کہ کہیں میں ان سے مالی مدد نہ مانگ لوں۔یہ سوچتے ہوئے فاطمہ بی نے گھر میں نا خوش گوار ر ویہ اختیار رکھنا شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے گھریلوں حالات بہت متاثر ہوئے۔ گھر میں نا چاقیاں اور نا اتفاقی بڑھ گئی۔اور ایک دن حد سے زیادہ اختلافات اور غصہ میں آکر فاطمہ بی نے گھر سے پیسے اور زیور لیا اور گھر چھوڑ کر چلی گئی۔فاطمہ بی کی بہو کا کہنا ہے کہ میں نے اماں کو روکنے کی کوشش بھی کی تھی مگر وہ نہ رکی۔
لطیف آباد نمبر ۴ میں کرایہ کے چھوٹے سے گھرمیں رہنے والی فاطمہ بی کا کہنا ہے کہ۔ میرے بیٹے اور بہو کی نظر میرے پیسوں پہ تھی۔میری محنت کی کمائی جو میں کئی سالوں سے جمع کررہی تھی۔ وہ سب مجھ سے چھین لیتے۔ اسی وجہ سے میں نے وہ گھر چھوڑ دیا۔اور میں اپنے اس فیصلے سے مطمئن ہوں۔
ا پنے عزیز و رشتہ داروں سے اسی ڈر کی وجہ سے نہیں ملتی کہ کہیں یہ لوگ مجھ سے میرے پیسے نہ چھین لیں۔اس نے رشتوں سے زیادہ پیسوں سے عشق کیا۔پیسوں کا ذخیرہ جمع کرنے کی خواہش نے اسکو نفسیاتی مریض بنا دیا۔کہ آج وہ لاکھوں کی مالک ہونے کے باوجود مفلسی والی زندگی گزار رہی ہے۔عورت کی اس خواہشوں نے اس کواپنے عزیز و قارب سے دور ایک الگ تھلگ زندگی گزانے پر مجبور کردیا۔اس کرایہ کے چھوٹے مکان میں تن تنہا رہنے والی عورت کو اس بات کا زرہ ملال نہیں کہ وہ اپنی بے جا خواہشوں کی وجہ سے کس حد تک برباد ہوگئی ہے۔ان حالات میں بھی اس عورت کا ماننا ہے کہ پیسہ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔مگر شاید وہ یہ بات نہیں جانتی کہ اس عورت کی خواہشوں نے اس کو جیتے جی مار دیا۔


Feature is always reporting based - observation, talk with related people, Its basic purpose is to provide entertainment Or it provides information in entertaining manner.
If its real and specific story, it needs 5Ws +1H and 
U will have to make it more specific and concretise it by giving different incidents, dialogues etc like a complete story
Observe para.
Presently its in article or essay style 
Referred back 


 خواہشات مار دیتی ہیں
فلک حفصہ 
2k18/MC/47
خواہش لفظ سنے میں کتنا ہلکا اور میٹھا لگتا ہے۔مگر در حقیقت میں اتنا ہی بھاری اور کڑواہوتا ہے۔کسی دانا کا کہنا ہے کہ بعض خواہشات کا مر جانا ہی بہتر ہوتا ہے،کیونکہ اگر وہ نہیں مرتی تو وہ آپ کو مار دیتی ہیں۔کسی بھی چیز کی خواہش کرنا برا نہیں ہوتا۔ مگر انہیں خواہشات کے پیچھے بھاگ کر اپنوں کو تکلیف دینا یا کسی لاحاصل چیز کے چکر میں حاصل کو کھو دینامنفی عمل ہوتا ہے۔آج کے دور میں خواہشوں کے پیچھے بھاگنے والے اور پھر اپنی زندگی کو برباد کرنے والوں کی مثالیں کثرت کی تعداد میں موجود ہیں۔بے جا خواہش کے پیچھے بھاگنے والاخواہ مرد ہو یا عورت،نقصان اٹھاتا ہے۔اور کبھی کبھی یہ نقصان اس کے گھر والوں کے بھی زمرے میں بھی آتا ہے۔بے جا خواہشوں کی وجہ سے لوگ اپنا آپ برباد کرلیتے ہیں۔اور جب بعد میں ان کو احساس ہوتا تو اپنی بربادی کا سوگ منا کر اپنی زندگی گزار لیتے ہیں۔مگر کچھ لوگ اپنی بے جا خواہشات کے تکمیل کے نشے میں اتنے آندھے ہوجاتے ہیں کہ اپنی بربادی کا سامان دیکھ بھی نہیں سکتے۔یہی حال ایک ایسی عورت کا ہے جو پیسوں کا ذخیرہ جمع کرنے کے باوجود بھی کرائے کے گھرمیں غریبوں جیسی زندگی گزار رہی ہے۔ اپنوں اور رشتہ داروں کے  ہونے کے باوجود بھی تنہا ہے۔آخرکیوں؟یہی عورت اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ خوش حال ذندگی گزار رہی تھی۔اور پیشہ ور ڈاکٹر تھی۔ بیٹے کی کمائی سے گھریلوں حالات بھی خوش گوار تھے۔اس عورت کوپیسے جمع کرنے کا شوق تھا۔اس عورت کی خواہش تھی کہ وہ ڈھیر سارے پیسے جمع کرے اور دنیا کو بتا سکے کہ اس کو کسی چیز کی کمی نہیں۔اسی خواہش کی تکمیل کی وجہ سے وہ فطرت میں بخیل تھی۔اپنی تنخواہ کو جمع کرکے رکھنا اس کا شوق۔منہ زور خواہشات سر اٹھا کر اس کے سامنے تب آئی جب کسی وجہ سے گھر اسکے بیٹے کے نام ہوگیا۔تب پہلی بار اس کو کچھ چھن جانے کا احساس ہوا۔اوپرسے لوگوں کا بھڑکانے والا رویہ کہ       کیوں پیسہ ان لوگوں پر ضائع کررہی ہو؟دیکھا جائیداد نام کردی اب توبیٹا پوچھے گا بھی نہیں! یہ دونوں بہو بیٹا تم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یہی باتیں اس عورت کے دماغ پر قابض ہوگئی۔اور آہستہ آہستہ اسکی نفسیات بھی منفی ہونے لگی۔یہاں سے اس عورت کی خواہشوں نے بربادی کی طرف پہلا قدم اٹھایا۔ انہیں منفی سوچوں کی وجہ سے اس عورت نے گھر میں نا خوش گوار ر ویہ اختیار رکھنا شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے گھریلوں حالات بہت متاثر ہوئے۔ گھر میں نا چاقیاں اور نا اتفاقی بڑھ گئی۔ حد سے زیادہ اختلافات کی وجہ سے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے چکر میں اس عورت نے اپنے گھر سے پیسے اور زیور لیا اور گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ اور دور دراز علاقہ میں کرایہ کے چھوٹے سے گھرمیں رہنے لگی۔اپنے عزیز و رشتہ داروں سے دور اسی ڈر کی وجہ سے کہ کہیں یہ لوگ مجھ سے میرے پیسے نہ چھین لیں۔اس نے رشتوں سے زیادہ پیسوں سے عشق کیا۔پیسوں کا ذخیرہ جمع کرنے کی خواہش نے اسکو نفسیاتی مریض بنا دیا۔کہ آج وہ لاکھوں کی مالک ہونے کے باوجود مفلسی والی زندگی گزار رہی ہے۔عورت کی اس خواہشوں نے اس کواپنے عزیز و قارب سے دور ایک الگ تھلگ زندگی گزانے پر مجبور کردیا۔اس کرایہ کے چھوٹے مکان میں تن تنہا رہنے والی عورت کو اس بات کا زرہ ملال نہیں کہ وہ اپنی بے جا خواہشوں کی وجہ سے کس حد تک برباد ہوگئی ہے۔ان حالات میں بھی اس عورت کا ماننا ہے کہ پیسہ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔مگر شاید وہ یہ بات نہیں جانتی کہ اس عورت کی خواہشوں نے اس کو جیتے جی مار دیا۔

Falak Hafsa Feature Urdu

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi, at Institute of Media & Communication Studies, University of Sindh, Jamshoro, Sindh Pakistan

Sunday, 26 January 2020

Falak Hafsa - article BS- 47- Urdu Revised



                                                   
              پاکستان میں سیاحت     
فلک حفصہ
47/MC/2k18
 پاکستان بے شمار خداداد نعمتوں کا ملک ہے۔ سیاحت کے حوالے سے تاریخی مقامات ہو یا مذہبی مقامات، تفریحی جگہیں ہوں یا ثقافتی سب اپنی اپنی جگہ ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ موسم سرما میں شمالی علاقہ جات میں برف سے ڈھکے پہاڑ اس ملک کے حسن کو چار چاندلگ جاتے ہیں۔ دوردراز ممالک سے لوگ ان حسین مناظر کو دیکھنے کے لیے سیاحت کا سفر اختیار کرتے ہیں۔ سیاحت کی کئی اقسام ہیں۔ جس میں مذہبی سیاحت، تاریخی سیاحت، ثقافتی سیاحت، تفریحی سیاحت، سرمائی سیاحت اور دیگر پاکستان میں موجود ہیں۔
سیاحت کا سفر انسانی ذہن پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال میں ایک بار سیاحت کا سفر اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان میں مذہبی سیاحت کے لیے بڑے بڑے اولیاء حضرات کے مزارات جن میں پاک پتن کے بابا فرید شکر گنج، سہون شریف کے لال شہباز قلندر، لاہور کے داتا گنج بخش،بھٹ شاھ کے شاہ عبدلطیف بھٹائی اور دیگر مذہبی مزارات سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ تو دوسری طرف سکھ برادری کی کرتارپور میں کثرت کی تعداد میں آمد مذہبی سیاحت کو فروغ دیتا ہے۔
تاریخی سیاحت کے حوالے سے پاکستان میں کئی جگہیں موجود ہیں۔ جن میں سیاحوں کا رخ موئن جو دڑ و،  ہڑپہ، ٹیکسلا اور دیگر تاریخی مقامات کی طرف ہوتا ہے۔ تاریخی مقامات ہمارے ملک میں کثرت کی تعداد میں موجود ہیں۔ جوکہ ہماری تاریخی ورثہ کو پیش کرتے ہیں۔ثقافت ملک کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ ہر ملک اپنی ثقافت کی وجہ سے جانا او ر پہچانا جاتا ہے۔ ثقافت سیاحت کے لحاظ سے پاکستان میں ثقافتی میلے اہم ثابت ہوتے ہیں۔انہیں میلوں کے زریعے ہم لوگ اپنی ثقافت، رسومات اور رہن سہن کی پہچان کرواتے ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوء آج بھی اپنی ثقافتی رہن سہن کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اور ثقافتی سیاحت کے لیے اہم جگہیں ہیں۔
سرمائی اور تفریہی سیاحت کے لیے سیاح کی کثر تعداد کا رخ لاہور،  بلتستان، مری، گلگت اور دیگر شمالی علاقوں کی طرف ہوتا ہے۔جہاں کے پر مسرت اور آنکھوں کو ذخیرہ کردینے والے حسین مناظر سیاح کو دوبارہ اسی طرف کا رخ کرنے پر مجبو ر کردیتے ہیں۔
جس طرح پاکستان میں سیاحت کے لیے مقامات اور جگہیں کثرت کی تعداد میں موجود ہیں۔ بلکل اسی طرح پاکستان میں سیاحت کیلیے آئے ہوئے سیاحوں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن میں سب سے بڑا مسلہ سیاحتی جگہوں پر انتظامیہ کی ناقص کارکردگی، تفرہی  جگہوں اور تاریخی مقامات پر حفاظتی انتظامات کا فقدان، جس کی وجہ سے تاریخی مقامات سے جڑی قیمتی اشیاء غیر محفوظ، اور تاریخی ورثہ کو نقصان پہنچا ہے۔ حفاظتی اقدام کے کمی کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موسم سرما میں برف باری کی وافر مقدار کی وجہ سے سڑکوں کا بند ہوجانا، مقامی لوگوں اور سیاحوں کو سفر کرنے کے لیے خاصہ مشکل مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔
سیاحت کسی بھی ملک کے لیے معاشی استحقام کا باعث بنتی ہے۔ حال ہی میں سیاحت کو فروغ دینے اور اس کے مسائل کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے چند اقدام سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ سیاحت کی آمد و رفت کسی بھی ملک کے لیے مثبت پہلو ثابت ہوتے ہے۔ سیاحت کی بہتری کے لئے حکومت کی طرف سے  پہلا قدم انڈیا  سے سکھ برادری کی بڑی تعداد میں کرتارپور میں آمد کو ممکن بنانا، جوکہ ملک میں مذہبی سیاحت کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا۔
سیاحت کی بحالی ملک کے لیے خوش آئند ثابت ہوتی ہے۔ دہشت گردی اور قدرتی آفات کی وجہ سے ہمارے ملک  کے  سیاحتی ادارے کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور سیاحتی جگہوں پر منفی اثرات پڑے۔ ۷۱۰۲ میں پاکستان سیاحتی ممالک کی فہرست میں ۰۴۱ میں سے ۴۲۱کے درجے پہ فائز تھا۔ جبکہ ۹۱۰۲ میں پاکستان ۴۲۱ سے ۱۲۱ کی برتری کی فہرست میں آگیا۔ اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت نے سیاحت کی فروغ کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ہیں۔ اور غیر ممالک کی منفی سوچ کو بدلا ہے۔ تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاح کی آمدسے ہمارے ملک کی معیشت میں بہتری آئے گی۔ جس کی وجہ سے ہمارا ملک  پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہوگا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------

First version
فائیل نام غلط ہے یہ مضمون کے موضوع کے نام سے نہیں بلکہ مصنف کے نام سے اور یہ مضمون ہے فیچر ہے وغیرہ اس صنف کے حوالے سے ہونا چاہئے۔ 
 یہ موضوع کس طرح سے منظور ہوا تھا؟ وہ سرخی کے طور پر لکھنا ضروری ہے۔
الفاظ کے درمیاں اسپیس  کئی مقامات پر زیادہ ہے۔ ایڈیٹنگ میں زیادہ وقت اسی میں لگ جائے گا۔ 
مصنف کا نام رول نمبر اور کلاس مضمون میں موجود ہیں،

                                                      
                    سیاحت        
 پاکستان  بے شمار  خداداد  نعمتوں  کا  ملک  ہے۔  سیاحت  کے  حوالے  سے  تاریخی  مقامات  ہو  یا  مذہبی  مقامات،  تفریح  جگہیں  ہوں   یا  ثقافتی  سب  اپنی  اپنی  جگہ  ایک  منفرد  حیثیت  رکھتے  ہیں۔  موسم  سرما  میں  شمالی  علاقہ جات  میں  برف  سے  ڈھکے  پہاڑ   اس  ملک  کے  حسن  کو  چار  چاند  لگ  جاتے  ہیں۔  دور  دراز  ممالک  سے  لوگ  ان  حسین  مناظر  کو  دیکھنے  کے  لیے  سیاحت  کا  سفر  اختیار  کرتے  ہیں۔   سیاحت  کی  کئی  اقسام  ہیں۔  جس  میں  مذہبی  سیاحت،  تاریخی  سیاحت،  ثقافتی  سیاحت،  تفریحی  سیاحت،  سرمائی  سیاحت  اور  دیگر  پاکستان  میں  موجود  ہیں۔
سیاحت  کا  سفر  انسانی  ذہن  پر  مثبت  اثر  ڈالتا  ہے۔  ماہرین  کا  کہنا  ہے کہ  سال  میں  ایک  بار  سیاحت  کا  سفر  اختیار کرنا  چاہیے۔  پاکستان  میں  مذہبی  سیاحت  کے  لیے  بڑے  بڑے  اولیاء  حضرات  کے  مزارات  جن  میں  پاک پتن  کے  بابا  فرید  شکر  گنج،  سہون  شریف  کے  لال  شہباز  قلندر،  لاہور  کے داتا  گنج  بخش، بھٹ  شاھ  کے  شاہ  عبدلطیف  بھٹائی  اور  دیگر  مذہبی  مزارات  سیاح کو  اپنی  طرف  متوجہ کرتے  ہیں۔  تو  دوسری  طرف  سکھ  برادری کی کرتارپور  میں  کثرت  کی  تعداد  میں  آمد  مذہبی  سیاحت  کو  فروغ  دیتا  ہے۔
تاریخی  سیاحت  کے  حوالے  سے  پاکستان  میں  کئی  جگہیں  موجود  ہیں۔  جن  میں  سیاحوں  کا  رخ  موئن  جو  دڑو،  ہڑپہ،  ٹیکسلا  اور  دیگر  تاریخی  مقامات  کی  طرف  ہوتا  ہے۔  تاریخی  مقامات  ہمارے  ملک  میں کثرت کی  تعداد  میں  موجود  ہیں۔ جوکہ  ہماری  تاریخی  ورثہ  کو  پیش  کرتے  ہیں۔
ثقافت  ملک  کا  اہم  حصہ  ہوتی  ہے۔  ہر  ملک  اپنی  ثقافت  کی  وجہ  سے  جانا  اور  پہچانا  جاتا  ہے۔  ثقافت  سیاحت  کے  لحاظ  سے  پاکستان  میں  ثقافتی  میلے  اہم  ثابت  ہوتے  ہیں۔  انہیں  میلوں  کے  زریعے  ہم  لوگ  اپنی  ثقافت،  رسومات  اور  رہن  سہن  کی  پہچان  کرواتے  ہیں۔  سندھ،  بلوچستان  اور  خیبر پختونخوء  آج  بھی  اپنی  ثقافتی  رہن سہن  کی  وجہ  سے  مشہور  ہیں۔  اور  ثقافتی  سیاحت  کے لیے  اہم  جگہیں  ہیں۔  
سرمائی  اور  تفریہی  سیاحت  کے  لیے  سیاح  کی  کثرت  تعداد  کا  رخ  لاہور،   بلتستان، مری،  گلگت  اور  دیگر  شمالی  علاقوں  کی  طرف  ہوتا  ہے۔جہاں  کے  پر مسرت  اور  آنکھوں  کو  ذخیرہ  کردینے  والے  حسین  مناظر  سیاح  کو  دوبارہ  اسی  طرف  کا  رخ  کرنے  پر  مجبو ر  کردیتے  ہیں۔  
جس  طرح  پاکستان  میں  سیاحت  کے لیے  مقامات  اور  جگہیں  کثرت  کی  تعداد  میں  موجود  ہیں۔  بلکل  اسی  طرح  پاکستان  میں  سیاحت  کیلیے  آئے  ہوئے  سیاحوں  کو  بے شمار  مسائل  کا  سامنا  کرنا  پڑتا  ہے۔ جن  میں  سب  سے  بڑا  مسلہء  سیاحتی  جگہوں  پر  انتظامیہ  کی  ناقص  کارکردگی،  تفرہی  جگہوں  اور  تاریخی  مقامات  پر  حفاظتی انتظامات  کا  فقدان،  جس  کی  وجہ  سے  تاریخی  مقامات  سے  جڑی  قیمتی  اشیاء  غیر  محفوظ،  اور  تاریخی  ورثہ  کو  نقصان  پہنچا  ہے۔  حفاظتی  اقدام  کی  کمی  کی  وجہ  سے  غیر  ملکی  سیاحوں  کو  مشکلات  کا  سامنا  کرنا  پڑتا  ہے۔  موسم  سرما  میں  برف باری  کی  وافر  مقدار  کی  وجہ سے  سڑکوں  کا  بند  ہوجانا،  مقامی  لوگوں  اور  سیاحوں  کو  سفر  کرنے  کے  لیے  خاصہ  مشکل  مرحلہ  ثابت  ہوتا  ہے۔
سیاحت  کسی  بھی  ملک  کے  لیے  معاشی  استحقام  کا  باعث  بنتی  ہے۔  حال  ہی  میں  سیاحت  کو  فروغ  دینے  اور  اس  کے  مسائل  کو  ختم  کرنے  کے  لیے  حکومت  کی  طرف  سے  چند  اقدام  سامنے  آئے  ہیں۔  کیونکہ  سیاحت  کی  آمد و  رفت  کسی  بھی  ملک  کے لیے  مثبت  پہلو  ثابت  ہوتی  ہے۔  سیاحت  کی  بہتری  کے  لئے   حکومت  کی طرف سے   پہلا  قدم  انڈیا   سے  سکھ  برادری  کی  بڑی  تعداد  میں  کرتارپور  میں  آمد  کو  ممکن  بنانا، جوکہ  ملک  میں  مذہبی  سیاحت  کا  بہترین  ذریعہ  ثابت  ہوا۔
سیاحت  کی  بحالی  ملک کے لیے  خوش  آئند  ثابت  ہوتی  ہے۔  دہشت  گردی  اور  قدرتی  آفات  کی  وجہ  سے  ہمارے  ملک  کے  سیاحتی  ادارے  کو  بے  شمار  مشکلات  کا  سامنا  کرنا  پڑا۔  اور  سیاحتی  جگہوں  پر  منفی  اثرات  پڑے۔  ۷۱۰۲  میں  پاکستان  سیاحتی  ممالک  کی  فہرست  میں  ۰۴۱  میں سے  ۴۲۱  کے  درجے  پہ  فائز  تھا۔  جبکہ  ۹۱۰۲  میں  پاکستان   ۴۲۱  سے  ۱۲۱  کی  برتری  کی  فہرست میں  آگیا۔  اس  بات  سے  یہ  ثابت  ہوتا  ہے  کہ  پاکستانی  حکومت  نے  سیاحت  کی  فروغ  کے  لیے  مثبت  اقدام  اٹھاء  ہیں۔  اور  غیر  ممالک  کی  منفی  سوچ  کو  بدلا  ہے۔ تاکہ  ملکی اور  غیر  ملکی  سیاح  کی  آمد  سے  ہمارے  ملک  کی  معیشت میں  بہتری  آئے گی۔  جس  کی  وجہ  سے  ہمارا  ملک   پاکستان  ترقی  کی  طرف  گامزن  ہوگا۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi, at Institute of Media & Communication Studies, University of Sindh, Jamshoro, Sindh Pakistan