Showing posts with label 98. Show all posts
Showing posts with label 98. Show all posts

Thursday, 13 February 2020

Shahbaz Khan Feature Urdu Revised 98


Revised 
شھباز خان) بی ایس پارٹ تھری)
2k18/MC/98
 نیا پل لنڈا بازارحیدرآباد
 روایزڈ۔
پرانے اور استعمال شدہ کپڑوں کا بازار جسے لنڈا بازار کہا جاتا ہے لنڈا ایک برطانوی خاتون کا نام تھا جو کہ بہت رحم دل اور غریبوں سے ہمدردی رکھنے والی عورت تھی اُسنے غریبوں کے لئے کچھ کرنے کا سوچا مگر اُسکے اپنے وسائل ہی کم تھے تو اُسنے اپنے کچھ دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی  اُسکے دوستوں نے اسے کچھ پرانے جوتے اور کپڑے دیدیئے جو اُسنے غریبوں کے لئے ایک اسٹال پر سجائے اور غریب لوگ وہاں سے وہ کپڑے مفت لینے لگے یہ دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑے لنڈا کو دینا شروع کردیئے اور اسکا یہ اسٹال کافی مشہور ہوگیا جو باد میں ایک مارکٹ بن گیا اور اسے لنڈا مارکٹ کے نام سے جانا جانے لگا اور انگریزوں کی برصغیر کی آمد کے ساتھ انگریزوں کی پرانی اشیاء جو بیکار ہوجاتی تھی سستے دام میں پاکستان اور ہندوستان میں فروخت ہوجاتی تھی۔
حیدرآباد جسے سندھ کا دوسرا بڑا شہر کہا جاتا ہے اسی شہر میں مکی شاہ روڈ پر واقع پل جس کے نیچے لنڈا بازار لگایا جاتا ہے جسے لوگ نیا پل لنڈا بازار کے نام سے جانتے ہیں جو کے حیدرآباد کا سب سے مشہور اور پرانا لنڈا بازار ہے۔
حیدرآباد میں تین جگہ لنڈا بازار لگتے ہیں جس میں ایک بازار فاتحہ چوک پکولا فیکٹری جانے والے روڈ پر لگتا ہے اور دوسرا حیدرآباد کپڑا مارکیٹ روڈ سے فقیر کے پڑ جانے والی سڑک پر جبکہ تیسرا اور سب سے بڑا لنڈا بازار نئے پل پر لگایا جاتا ہے۔
یہاں موجود شیر خان جو کے یہاں پندرہ سال سے لنڈا کے جوتے فروخت کر رہا ہے اس نے بتایا کہ وہ یہ کام بچپن سے ہی کرہا ہے اس سے پہلے اسکے والد یے کام کرتے تھے وہ بچپن سے ہی انکے ساتھ ہوتا تھا اور آج اُسنے اپنی ذاتی دکان خرید لی ہے اسی طرح موجود یہاں ایک اور دکاندار جس کا نام  رحیم خان ہے یے یہاں 11 سال سے ٹھیلہ لگا رہا ہے اسے نہ بتایا جو کپڑے اپ کو بڑے بڑے  برانڈز کی دکانوں پر ہزاروں روپے میں ملتے ہیں وہ یہاں میں سو روپے سے لیکر پانچ سوروپے تک فروخت کرتا ہوں اور دکان داروں نے بھی کچھ اسی طرح کی باتیں بتائیں یہاں کے سب سے پرانے دکاندار سلیم خان کا کہنا ہے نیا پل لنڈا بازار میں آپ کو دکانیں بھی ملے گی اور اسٹال بھی اس کا سبب یہ ہے کہ جب بڑی گھاٹے خولی جاتی ہیں تو اس میں سے اچھا مال چھانٹ کر دکانوں پر رکھ لیا جاتا ہے اور بچا کچھا اسٹال پر سجا دیا جاتا ہے۔جہاں ہر چیز کی الگ الگ قیمت رکھی جاتی ہے۔
یہاں ایک جوتا خریدنے آئے شخص فرحان نے بتایا کہ وہ یہاں ایک شوز خریدنے آیا تھا جس کی قیمت بڑی دکانوں کمسکم دو ہزار ہے اور اُسنے یہاں سے وہ 500 روپے میں خریدا ہے ایک خریدار محممود عالم قریشی جس نے یہاں گھر کے سجاوٹ کے سامان کا پورا ٹھیلہ ہی خرید لیا انہوں نے بتایا کہ یہ سامان انہیں کسی دوسری دکان سے بہت مہگا ملتا جبکہ میں نے یہاں سے یے پورا اسٹال پانچ ہزار میں خرید لیا ہے خریداروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں وہ چیزیں مل جاتی ہیں جو انٹک ہوتی ہیں اور وہ پورے پاکستان میں کہیں نہیں مل سکتی۔
خریداروں کا کہنا ہے بعض اوقات خوش قسمتی سے انہیں لنڈا کے کپڑوں سے کچھ قیمتی سکے ملے جیسے ایک صارف نومان نے کہاایک بار اس کے پاس ایک امریکی ڈالر ایک بیگ سے مل گیا تھا۔ ”ایک اور صارف نے بتایا کہ اسے کیمرا کا میموری کارڈ مل گیا ہے اور اس کا ذخیرہ 32 جی بی کے قریب ہے لہذا یہ حیرت انگیز ہے۔نیا پل لنڈا بازار اپنے خریداروں کو ہر چیز کی پیش کش کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ استعمال شدہ مواد ہے لیکن یہ غریبوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لاتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور انکے چہرے پر خوشی لاتا ہے لہذا اس کی اہمیت انمول ہے۔لوگوں کا کہنا ہے انہیں یہاں اچھی اور پائیدار چیزیں مل جاتی ہے بعض دفعہ مہگی بھی ملتی ہیں مگر وہ پائیدار ہوتی ہیں تو ہم خرید لیتے ہیں 

پاکستان کا سب سے بڑا لنڈا بازار لاہور ریلوے اسٹیشن پر دہلی دروازے کے قریب ہے جہاں سے بڑی تعداد میں مال کراچی لائٹ ہاؤس لنڈا مارکیٹ میں بھی آتا ہے جو کے پاکستان کی دوسری سب سے بڑی لنڈا مارکیٹ ہے۔


Again referred back 
یہ پول نہیں پل ہے۔ پکہ قلعہ نہیں، یہ مکی شاہ روڈ اور کچہ قلعہ کی طرف  سڑک جاتی ہے۔ 
لنڈا سے کیا مطلب ہے؟ وہ لکھو۔ فیچر کا مقصد تفریح مہیا کرنا ہے، اور اس میں معلومات دلچسپ انداز میں دی جاتی ہے۔ 
 یہ رپورٹنگ بیسڈ نہیں۔ اس میں متعلقہ لوگوں کے جملے (کوٹ) ڈالو، منظر کشی کرو۔ اس سے پہلے لنڈا بازار کہاں تھا؟ اور شہر میں کہاں کہاں ہے۔  دنیا بھر میں لنڈا بازار ہوتے ہیں نیٹ پر تلاش کر کے ان کا موازنہ کرو۔
 لنڈا بازار میں پیار کہاں سے نکال لائے ہو۔
 فائل کے اندر یہاں پر لکھو کہ یہ آرٹیکل ہے یا فیچر؟ 
اتوار کی شام تک دوبارہ بھیجو

شھباز خان) بی ایس پارٹ تھری)

2k18/MC/98
 نیا پول لنڈا بازارحیدرآباد
 روایزڈ۔
حیدرآباد جس کو پیار اور محبت کرنے والوں کا شہر کہا جاتا ہے اس شہر میں بہت سی بین اقوامی اور قومی دکانیں بھی واقع ہیں جہاں صرف امیر لوگ ہی جا سکتے ہیں لیکن اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں کیوں کے یہ پیار کرنے والوں کا شہر ہے یہاں ان لوگوں کے لئے اس کا متبادل موجود ہے جو لوگ مہنگے برانڈز جیسے بونانزا، آکسفورڈ اور نائک کے کپڑے نہیں خرید سکتے ہیں وہ نیا پل لنڈا مارکیٹ جاسکتے ہیں۔حیدرآباد پکہ قلعہ روڈ پر واقع ایک پل کے نیچے یے لنڈا بازار لگایا جاتا ہے جس پل کو لوگ نئے پل کے نام سے پکارتے ہیں۔

پہلے یہاں صرف لنڈا لگا کرتا تھا لکین اب اس کے ساتھ ساتھ یہاں نئی دکانیں بھی کھل گئی ہیں جہاں لوگ نئی نئی برانڈڈ چیزیں بھی خرید سکتے ہیں۔یہاں آنے والے خریداروں کا کہنا ہے یہاں آپ کپڑوں سے لیکر جوتے اور جوتوں سے لیکر بیگز یہاں تک کہ گھر کے برتن تک خرید سکتے ہیں یعنی مطلب ہر چیز ملی گی۔
نیا پل لنڈا مارکیٹ میں مختلف معاشروں کے لوگ، خاص طور پر پٹھان، بازاروں اور سڑک کے کنارے اپنے عارضی اسٹال لگاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی اس کاروبار میں مبتلا تھے کیوں کہ یہ ان کے آباؤ اجداد کا کام ہے۔
لنڈا بازار میں آپ کو دکانیں بھی ملے گی اور اسٹال بھی اس کا سبب یہ ہے کہ جب بڑی گھاٹے خولی (گھاٹیں کھولی) جاتی ہیں تو اس میں سے اچھا مال چھانٹ کر دکانوں پر رکھ لیا جاتا ہے اور بچا کچھا اسٹال پر سجا دیا جاتا ہے۔جہاں ہر چیز کی الگ الگ قیمت رکھی جاتی ہے جب ان دکان داروں سی بات کی گئی تو انہوں نے بتایا اس سامان میں کئی اشیاء ایسی بھی نکل آتی ہیں جو ایک عام آدمی کے لیے نئی خریدنے نہ ممکن ہیں۔مثلاًآی فون جیسے موبائل بھی نکل جاتے ہیں۔
یہاں آنے والے خریداروں کا کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم میں لنڈا بازار میں گرم کپڑوں پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقامی بازار غریبوں اور مساکین لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔وہ لوگ جو مہنگے برانڈز کے کپڑے نہیں خرید سکتے اور جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کے وہ نئے برانڈز کے کپڑے خریدیں نیا پل پر ہر روز ان خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے اور اگر یہ اتوار ہے تو پوری مارکیٹ خریداروں سے بھری ہوتی ہے یہاں تک کہ آپ کو بازار میں کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ملتی ہے حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آتے ہیں۔پہلے تو صرف یہاں متوسط طبقے کے لوگ آیا کرتے تھے لیکن اب یہاں بڑی بڑی گاڑیوں میں لوگ یہاں آتے ہیں یہ مارکیٹ حیدرآباد کی کسی باڑی مارکیٹ سے کم نہیں۔

جیسا کہ بہت سے لوگ یہاں برانڈڈ کپڑے اور جوتے خریدنے آتے ہیں ویسے ایک طبقہ ان لوگو کا بھی ہے جنہیں الیکٹرانکس چیزوں سے دلچسپی ہوتی ہے کیوں کے الیکٹرونکس کے لنڈا میں ان کو ایسی چیزین مل جاتی ہیں جو یہاں بڑے بڑے برانڈز کی دکانوں پر بھی نہی ملتی اور انکی مضبوطی اور چ
املا کی غلطیاں ہیں
 رپورٹنگ بیسڈ نہیں
منظرکشی کرو
 جو معلومات ہے اس کو دلچسپ انداز میں بیان کرو۔  
فیس بک گروپ پر کچھ نمونے کے طور پر فیچر رکھے ہیں وہ پڑھو

Shahbaz Khan Feature Urdu
شھباز خان) بی ایس پارٹ تھری)
2k18/MC/98
 نیا پول لنڈا بازارحیدرآباد
حیدرآباد جس کو پیار اور محبت کرنے والوں کا شہر کہا جاتا ہے اس شہر میں بہت سی بینالکوامی اور قومی دکانیں بھی واقع ہیں جہاں صرف امیر لوگ ہی جا سکتے ہیں لیکن اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں کیوں کے یہ پیار کرنے والوں کا شہر ہے یہاں ان لوگوں کے لئے اس کا متبادل موجود ہے جو لوگ مہنگے برانڈز جیسے بونانزا، آکسفورڈ، ہینگٹن اور نائک کے کپڑے نہیں خرید سکتے ہیں وہ نیا پول لنڈا مارکیٹ جاسکتے ہیں اور یہاں سے کم قیمت میں یہ سب خرید سکتے ہیں اس جگہ پر آپ ہر طرح کے برانڈز حاصل کرسکتے ہیں: جوتے، جیکٹس، بیگ، زیورات، دستانے، لمبے جوتے اور موزے اور بہت کچھ۔
وہ لوگ جو مہنگے برانڈز کے کپڑے نہیں خرید سکتے اور جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کے وہ نئے برانڈز کے کپڑے خریدیں نیا پول پر ہر روز ان خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے اور اگر یہ اتوار ہے تو پوری مارکیٹ خریداروں سے بھری ہوتی ہے یہاں تک کہ آپ کو بازار میں کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ملتی ہے حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آتے ہیں۔
نیا پل لنڈا مارکیٹ میں مختلف معاشروں کے لوگ، خاص طور پر پٹھان، بازاروں اور سڑکوں کے کنارے اپنے عارضی اسٹال لگاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی اس کاروبار میں مبتلا تھے کیوں کہ یہ ان کے آباؤ اجداد کا کام ہے۔دکانداروں سے گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ تجارت کے افراد کی دو اقسام ہیں ایک براہِ راست ان استعمال شدہ کپڑوں جوتوں اور بہت سی چیزوں کو خریدتے ہیں اور دوسرے نیلامی کے موقع پر اسے خریدتے ہیں ان میں سے کچھ دکاندار عیب والا مال خریدتے ہیں اور پھر اس میں سے صاف مال الگ کرلیتے ہیں دکاندار نے کہا کہ ہم کپڑے بہت مناسب قیمتوں میں دیتے ہیں مگر پھر بھی گاہک اس میں کمی کراتے ہیں بعض اوقات ہم کمی کردیتے ہیں لیکن کبھی ہے ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتا ہے۔
یہاں مرد اور خواتین کی ٹی شرٹس فروخت کی جاتی ہیں اور یہ نئی نئی نظر آتی ہے یہاں تک کہ قمیضوں میں بڑی تعداد میں تازہ روشن رنگ نظر آتے ہیں رات کو پہنے والے ٹراؤزر بھی مل جاتے ہیں۔ اب دیگر تاجر بھی الیکٹرانک اشیاء فروخت کررہے ہیں جس میں، ہیئر اسٹریٹینر، ڈرائر، بلینڈر، چکی، ساؤنڈ اسپیکلیپٹاپ، ان استعمال شدہ الیکٹرانک چیزوں کو خریدنا خطرہ ہے کیوں کہ یہ استعمال شدہ ہوتی ہیں اور ہم اندازہ نہیں لگا سکتے ہے صحیح چلے گی یہ نہیں نیا پول مارکیٹ میں باورچی خانے کا سامان بھی دستیاب ہے لنڈا بازار کی کریری فرائی پین، پیزا پلیٹ، شیشے، چائے پل، مگ اور ٹیبل پلیٹیں جن کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ڈیزائن بہت سادہ اور اچھے بھی ہیں لیکن جو حیرت انگیز لگتے ہیں اور کچھ  گھر کی سجاوٹ کا سامان بھی ملتا ہے جو جو لوگ خریدتے ہیں۔
خریداروں میں سے کچھ نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں لنڈا بازار میں گرم کپڑوں پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقامی بازار غریبوں اور مساکین لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
یہاں مرد اور خواتین کی ٹی شرٹس فروخت کی جاتی ہیں اور یہ نئی نئی نظر آتی ہے یہاں تک کہ قمیضوں میں بڑی تعداد میں تازہ روشن رنگ نظر آتے ہیں رات کو پہنے والے ٹراؤزر بھی مل جاتے ہیں۔ اب دیگر تاجر بھی الیکٹرانک اشیاء فروخت کررہے ہیں جس میں، ہیئر اسٹریٹینر، ڈرائر، بلینڈر، چکی، ساؤنڈ اسپیکلیپٹاپ، ان استعمال شدہ الیکٹرانک چیزوں کو خریدنا خطرہ ہے کیوں کہ یہ استعمال شدہ ہوتی ہیں اور ہم اندازہ نہیں لگا سکتے ہے صحیح چلے گی یہ نہیں نیا پول مارکیٹ میں باورچی خانے کا سامان بھی دستیاب ہے لنڈا بازار کی کریری فرائی پین، پیزا پلیٹ، شیشے، چائے پل، مگ اور ٹیبل پلیٹیں جن کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ڈیزائن بہت سادہ اور اچھے بھی ہیں لیکن جو حیرت انگیز لگتے ہیں اور کچھ  گھر کی سجاوٹ کا سامان بھی ملتا ہے جو جو لوگ خریدتے ہیں۔
خریداروں میں سے کچھ نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں لنڈا بازار میں گرم کپڑوں پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقامی بازار غریبوں اور مساکین لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔خریداروں کا کہنا ہے بعض اوقات خوش قسمتی سے انہیں لنڈا کے کپڑوں سے کچھ قیمتی سکے ملے جیسے ایک صارف نے کہاایک بار اس کے پاس ایک امریکی ڈالر ایک بیگ سے مل گیا تھا۔ ”ایک اور صارف نے بتایا کہ اسے کیمرا کا میموری کارڈ مل گیا ہے اور اس کا ذخیرہ 32 جی بی کے قریب ہے لہذا یہ حیرت انگیز ہے۔نیا پول لنڈا بازار اپنے خریداروں کو ہر چیز کی پیش کش کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ استعمال شدہ مواد ہے لیکن یہ غریبوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لاتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور انکے چہرے پر خوشی لاتا ہے لہذا اس کی اہمیت انمول ہے۔

Sunday, 26 January 2020

Shahbaz Khan Roll 98 Article Urdu

There are some proof reading mistakes. 
File name is wrong 
No mention of medium in subject line
Intro is dull, it should be made current and relevant.
An article should have purpose? What is purpose of this article? 

شھباز خان) بی ایس (3
2k18/MC/98
 پاکستان میں کیبل ٹیلی ویژن نیٹورک کا زوال
پاکستان میں کیبل ٹیلی ویژن کا آغاز 1964 میں ہوا جوکے ایک ریڈیو فریکوئینسی کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جاتا تھا جس میں نشریات کو لوگوں تک پیش کرنے کے لیے ایک ٹاور لگایاجاتا تھا جو صرف مخصوص شہر تک ہی سیگنال کو پھیلتا تھا اور ہم اپنے گھروں میں اینٹینا لگا کر ٹی وی کے چینل کو دیکھ سکتے تھے 1880کراچی میں ایک سیٹلائٹ کے ذریعے نئی سرویس لائی گئی جس میں سیٹلائٹ سے آنے والے سیگنال کو کیبل تاروں کے ذریعے ایک عمارت سے دوسری عمارت تک  پھیلایا جا سکتا  اور نشریات کو نشر کیا جا سکتا تھا جس میں پاکستان ٹیلیوژن کو ملا کر 4 سے 5 چینل دکھے جا سکتے تھے۔
 پاکستان میں نجی نشریات کا آغاز  1990 میں ہوا جس کا نام شالیمار ٹیلیوژن تھاجس میں پاکستان حکومت 45 فیصد حصہ تھا جس سیٹلائٹ کے ذریعے پاکستان میں نشریات چلائی جا رہی تھی 1999میں اسے ڈیجیٹل سیٹلائٹ میں تبدیل کردیا گیا اس سیٹلائٹ کے ذریعے پاک ٹیلی ویژن کے ساتھ ۲سے۳ نجی چینل کو دکھا جاتا تھا
سن 2000 (پیمرا) پاکستان ریگولیٹری اتھارٹی برائے میڈیا کا قیام شروع ہوا پیمرا ایک آزاد آئینی طور پر قائم کیا گیا جو کے  ایک وفاقی ادارہ ہے جو کے ٹی وی چینلز کے لائسنس کو باقاعدہ فراہم کرنے کا ذمدار ہے۔(پیمرا) ہر ایک کیبل آپریٹر کو اپنے اپنے شہر میں نجی چینل اور انٹرنیشنل چینل چلانے کا لائسنس دیتاہے کیبل آپریٹرز پیمرا کے لائسنس کے تحت سیٹلائٹ سے چینل وصول کر کے کیبل کے ذریعے گھروں کاک پہنچاتے ہیں اس ادارے کے قائم ہونے سے کیبل چینل میں اضافہ ہوا  اور اس کے ذریعے کیبل آپریٹر نجی اور انٹرنیشنل چینل کو وصول کرکے گھروں تک پہنچاتے ہیں جو چینل ہمارے ٹی وی پر دیکھے جاتے ہیں کیبل آپریٹرز ان تمام چینل کو پہلے سیٹلائٹ سے حاصل کرتے ہیں پھر آگے تقسیم کرتے ہیں اگر کیبل آپریٹر 80 چینل دیرہا ہے تو وہ پہلے ان 80 چینل کو خریدتا ہے اور ان کیمت اُن ادارہ کو دیتے ہیں جن سے وہ وصوم کرتے ہیں پاکستان کے ہر بڑے شہر میں 5 سے 6 کیبل آپریٹرز موجود ہوتے ہیں زیادہ تر کیبل آپریٹرز انڈین کمپنیز سے چینل وصول کرتے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں سے کیبل ٹی وی کی طرف سے لوگو کہ روحجان آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے کیبل ٹی وی میں آنے والے چنیل میں تو تیزی سے اضافہ ہورہاہے ہے مگر انہیں دیکھنے کی بات کی جائے تو لوگ اسمارٹ ٹیکنالوجی کی طرف زیادہ مائل ہوتے نظر آرہے ہیں 2013 میں کیبل ٹی وی استعمال کرنے والو میں دس فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ 2014 کے بعد سے 30 سے 40 فیصد کمی بتائی گئی ہے جس کی اہم وجہ (ڈی ٹی ایچ) ڈائریکٹ ٹو ہوم سرویس ہے یہ ایک وائرلیس سسٹم ہے جس میں بنا کوئی  تار استعمال کئے بغیر ٹی وی چینل دیکھے جا سکتے ہیں اس سرویس میں صارف کو خود اپنا رسیور لگانا ہوتا ہے اور سیٹلائٹ کے ذریعے اسکا رسیور پھر وہ سارے چینل  ڈائریکٹ بنا کسی تار کے ٹی وی تک پہنچتے ہیں اور اس سرویس کو استعمال کرنے والا اس میں اپنی مرضی کے چینل شامل کر سکتا ہے پاکستان میں انٹرنیشنل چینل جو کیبل نیٹورک پر نہیں آتے لوگ اسے بآسانی دیکھ سکتے ہیں جبکہ کیبل سرویس کیبل آپریٹرز کو بول کر اُن چینلز کو شامل کرایا جاتا ہے گزشتہ دو سالوں میں پاکستان الگ الگ کمپنیز کے (ڈی ٹی ایچ) سیٹپ باکس بڑی تعداد میں فروخت ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ انڈین کمپنیز کے ہیں۔
2016 میں پاکستان کیبل آپریٹرز نے ہرتال کردی تھی جس کی وجہ پاکستان میں (ڈی ٹی ایچ) لائسنس کی نیلامی ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے کیبل استعمال کرنے والے سریفن میں کمی آرہی ہے پاکستان میں سپریم کورٹ کے آرڈر سے چار(ڈی ٹی ایچ) لائسنس فروخت کئے جا چکے ہیں جن کی قیمت چار عرب روپے ہے پاکستان کی خود کی ڈی ٹی ایچ سرویس ہونے سے پاکستان کو ہی فائدہ ہوگا جو لوگ دوسرے ملک کے رسیور اور خریدتے ہیں اور سیٹلائٹ سے استعمال کرتے ہیں پاکستان کی ڈی ٹی ایچ سرویس استعمال کریں گے اور جو پیسہ ہمارا ملک سے باہر جاتا ہے وہ پاکستان میں ہی رہے گا مگر کیبل آپریٹرز کا کہنا ہے کہ اس سرویس سے اُن کے گرہک میں کمی آرہی ہے اور آہستہ آہستہ وہ ڈی ٹی ایچ اور سرویس اور اسمارٹ باکس رسیور کی طرف جارہے ہیں جس سے ان لوگوں کاروبار بلکل ختم ہوتا جارہا ہے۔
اسکے کے علاوہ آجکل انٹرنیٹ اتنا سستا ہوگیا ہے کے پاکستان میں 30 فیصد لوگ اپنے گھر میں انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں جسکے باعث لوگ اپنے پسندیدہ پروگرام کو وقت کے کی کمی کے باعث بعد میں دیکھنا پسند کرتے ہیں جو پروگرام کو دکھانے کے لیے انہیں اسکے ٹی وی پر آنے کا انتظار کرنا پڑتا تھا آجکل وہ پروگرام انٹرنیٹ پر یو ٹیوب جیسی ویب سائٹس پر آجائے ہیں اور آنے والے وقت میں آہستہ آہستہ ان کا روہجان کیبل ٹی وی کی طرف سے بلکل دور ہوجائے گا کیبل اوریٹر کا خود یہی کہنا ہے۔